تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 336
خاطرنہ بچائے گااللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ اگر پچاس صادق ہوں تومیں ان کی خاطرسارے شہر کو چھوڑ دوں گااس پرحضرت ابراہیم علیہ السلام تعداد کم کرتے گئے حتی کہ آخر میں دس صادقوں کے ہونے پر بھی شہر کو بچالینے کی درخواست کی اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر دس صادق بھی ہوں تب بھی میں شہر کو بچا لوں گا۔تب حضرت ابراہیم خاموش ہوگئے اورسمجھ لیا کہ دس صادق بھی ا س شہرمیں نہیں ہیں(پیدائش باب۱۸ آیت ۲۲تا۳۲) حضرت لوط ؑ پر ایمان لانے والی ایک جماعت تھی اس واقعہ سے معلوم ہوتاہے کہ حضر ت ابراہیم ؑ کویہ معلوم تھاکہ کچھ لوگ حضرت لوط پرایمان لائے ہیں ورنہ وہ یہ دعاکیوں کرتے۔حضرت لوط ؑ تھوڑے ہی فاصلہ پر رہتے تھے اوریقیناًان کی خبریں حضرت ابراہیم ؑکو ملتی رہتی ہوں گی۔پس یہ کیونکر ہوسکتاتھاکہ اگران کے علم میں کوئی بھی مومن نہ تھاتووہ ایسی دعاکرتے۔ہاں یہ معلوم ہوتاہے کہ انہیں اتنا معلوم تھاکہ مومنوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے اسی لئے انہوں نے پچاس کے عدد سے دعاشروع کی اوردس پر آکر چھوڑ دی۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ دس سے کم مومن تھے۔اور چونکہ تین یا تین سے زیادہ پر ھُمْ کالفظ بولاجاتاہے۔اس لئے ممکن ہے تین یا دوچار زیادہ مومن ہوں۔لَا يَلْتَفِتْ کہنے سے مراد کفار کی طرف توجہ نہ کرنا ہے اوریہ جو فرمایاکہ لَا يَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اس سے مراد پیچھے مڑ کر دیکھنا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کفارکی طرف توجہ نہ کرو۔اورانہیں ہلاک ہونے دو۔ورنہ پیچھے مڑکردیکھنے میں کوئی خاص بات نہ تھی۔حضرت لوط ؑ کی بیوی کے متعلق بائبل کا ایک عجیب بیان بائبل میں لکھا ہے کہ ان کی بیوی نے مڑ کردیکھا اوروہ نمک کا کھمبابن گئی (پیدائش باب ۱۹ آیت ۲۶)۔یہ کہ وہ نمک کاکھمبابن گئی۔اسے تومیں یہود اور مسیحیوں کی عقل پر چھوڑتاہوں مگر یہ میں واضح کر دینا چاہتاہوں کہ قرآن کریم کے روسے ان کی بیوی ساتھ آئی ہی نہ تھی۔کیونکہ فرماتا ہے۔کَانَتْ مِنَ الْغَابِرِیْنَ وہ پیچھے ہی رہ گئی تھی۔پس قرآن کریم کے بیان کے روسے اس کے نمک کاکھمبابن جانے یاکچھ اوربن جانے کاسوال ہی نہیںپیدا ہوتا۔اس کی قسم کی لغویت سے قرآنی بیان کاپاک ہونا ثابت کرتاہے کہ وہ خدائی کلام ہے۔ورنہ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ تورات جو قریب کے زمانہ میں لکھی گئی و ہ توایسے لغو قصہ کو بیان کرتی ہے مگر قرآن کریم اسے چھوڑ دیتاہے۔وَامْضُوْا حَیْثُ تُؤمَرُوْنَ سے میرے اس دعویٰ کی تصدیق ہوتی ہے کہ حضرت لوط کو وہ لوگ یہ بتانے کے لئے آئے تھے کہ وہاں سے نکل کر وہ کہاںجائیں اوراس کام میں مدد دینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں الہام کرکے