تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 30
ارادہ کو بھانپ گئے اور پیچھے ہٹ گئے۔مگر ان دونوں سے کچھ تعرض نہ کیا۔اس کے بعد وہ دونوں وہاں سے چلے گئے۔عربد پر راستہ میں بجلی گری اور عامر کاربنکل سے ہلاک ہوگیا۔صحابہؓ کہتے ہیں کہ ہم اس واقعہ پر لَهٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْۢ بَيْنِ يَدَيْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖ والی آیت چسپاں کیا کرتے تھے۔(روح المعانی زیر آیت ھٰذا) صحابہ لَہٗ مُعَقّبَاتٌ والی آیت آنحضرت صلعم کے لئے خاص سمجھتے تھے اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہؓ اس آیت کو عام سمجھنے کی بجائے خاص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سمجھا کرتے تھے۔آنحضرت ؐ کی حفاظت فرشتے کرتے تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام زمانہ نبوت اس حفاظت کا ثبوت دیتا ہے۔چنانچہ مکہ معظمہ میں آپؐ کی حفاظت فرشتے ہی کرتے تھے ورنہ اس قدر دشمنوں میں گھرے ہوئے رہ کر آپؐ کی جان کس طرح محفوظ رہ سکتی تھی۔ہاں مدینہ تشریف لانے پر دونوں قسم کی حفاظت آپ کو حاصل ہوئی۔آسمانی فرشتوں کی بھی اور زمینی فرشتوں یعنی صحابہؓ کی بھی۔بدر کی جنگ اس ظاہری اور باطنی حفاظت کی ایک نہایت عمدہ مثال ہے۔حضور جب مدینہ تشریف لے گئے تھے تو آپؐ نے اہل مدینہ سے معاہدہ کیا تھا کہ اگر آپ مدینہ سے باہر جاکر لڑیں گے تو مدینہ والے آپؐ کا ساتھ دینے پر مجبور نہ ہوں گے۔بدر کی لڑائی میں آپؐ نے انصار اور مہاجرین سے لڑنے کے بارہ میں مشورہ فرمایا۔مہاجرین بار بار آگے بڑھ کر مقابلہ کرنے پر زور دیتے تھے لیکن حضور ان کی بات سن کر پھر فرما دیتے کہ اے لوگو! مشورہ دو۔جس پر ایک انصاری (سعد بن معاذ) نے کہا کیا حضور کی مراد ہم سے ہے۔حضور نے فرمایا ہاں! اس نے کہا کہ بے شک ہم نے حضور سے معاہدہ کیا تھا کہ اگر باہر جاکر لڑنے کا موقع ہوگا تو ہم حضور کا ساتھ دینے پر مجبور نہ ہوں گے لیکن وہ وقت اور تھا۔جبکہ ہم نے دیکھ لیا کہ آپؐ خدا کے ر سول برحق ہیں تو اب اس مشورہ کی کیا ضرورت ہے؟ اگر حضور ہمیں حکم دیں تو ہم اپنے گھوڑے سمندر میں ڈال دیں گے۔ہم اصحاب موسیٰ ؑ کی طرح یہ نہ کہیں گے کہ تو اور تیرا رب جاکر لڑو۔ہم یہاں بیٹھے ہیں۔بلکہ ہم حضور کے دائیں بائیں، آگے اور پیچھے لڑیں گے اور دشمن آپ تک ہرگز نہ پہنچ سکے گا جب تک کہ وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے(بخاری کتاب المغازی باب قول اللہ تعالٰی اذ تستغیثون ربکم۔۔)۔معقبات میں صحابہ بھی داخل ہیں یہ مخلصین بھی میرے نزدیک ان معقبات میں سے تھے جو خدا تعالیٰ نے حضور کی حفاظت کے لئے مقرر فرما دیئے تھے۔ایک صحابی کہتے ہیں کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں تیرہ جنگوں میں شریک ہوا ہوں۔مگر میرے دل میں بارہا یہ خواہش پیدا ہوئی ہے کہ میں بجائے ان لڑائیوں میں حصہ