تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 329 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 329

حضرت ابراہیم کا مہمانوں کے کھانا نہ کھانے سے استدلال پس وہ ان سے پوچھتے ہیں کہ تمہاراخطب کیا ہے۔یعنی وہ امر مہم کیا ہے (خطب بڑے اہم امر کوبھی کہتے ہیں اورجواصلی کام ہو بڑاہویاچھوٹااسے بھی۔اس جگہ اصل اوراہم کام مراد ہے)جس کے لئے تم آئے ہو تمہارے دل پر جو بوجھ ہے ا س سے ظاہر ہے کہ اصل کام مجھے بیٹے کی بشار ت دینا نہیں اصل کام کوئی اورہے۔جو غم پیداکرنے والا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کایہ استدلال صاف بتاتا ہے کہ و ہ انہیں انسان سمجھتے تھے تبھی تو باوجود ان کے بشارت دے دینے کے انہوں نے ان کے کھانانہ کھانے کے فعل کو بلاوجہ قرار نہیں دیا۔اوراستدلال کیا کہ یہ ضرورکسی اورتکلیف دہ امر کے لئے سفرکررہے ہیں اگر وہ اس بشارت کی وجہ سے ان کو فرشتہ خیال کرلیتے توکھانانہ کھانے کاسوال بھی ان کے لئے حل ہوجاتا۔وہ اگلا سوال ان سے کیونکر کرسکتے تھے۔کہ پھر تمہارااصل مشن کیا ہے؟ یہ امر کہ ان کاکوئی اورمشن بھی ہے صرف کھانانہ کھانے سے ہی سمجھاجاسکتاہے۔اوراسی وقت سمجھا جاسکتاتھا جبکہ انہیں انسان سمجھا جاتا۔ابراہیم نے کہا کہ تمہارے دل پر کسی امر کابوجھ ہے جس کی وجہ سے تم کھاناوغیرہ نہیں کھاسکتے۔قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِيْنَۙ۰۰۵۹ انہوں نے کہا (کہ)ہمیں یقیناً ایک مجرم قوم کی طرف (ان کی ہلاکت کے لئے )بھیجا گیاہے۔تفسیر۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں تاکہ ان کے عذاب کی خبردیں اس لئے ہمارے دل پر بوجھ ہے۔اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِيْنَۙ۰۰۶۰ سوائے لوط کے پیرئووں کے (کہ)ان سب کو ہم یقیناً بچالیں گے۔تفسیر۔لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِيْنَسے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت لوط ؑ کے ساتھ نجات پانے والی ایک جماعت تھی ہاں لوط کاخاندان مستثنیٰ ہے اس فقرہ سے انہوں نے قو م بھی ظاہرکردی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پھر تسلی دے دی تاحضرت لوط کی وجہ سے غمگین نہ ہوں اوریہ جو فرمایا ہم ان سب کو نجات دیں گے یہ میرے نزدیک اس سبب سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں حضرت لوط کی آئندہ رہائش کے انتظام کے لئے