تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 328
غیرت ایمانی کودیکھو کہ مایوسی کالفظ سن کر فورً ا جواب دینے کوتیار ہوگئے اوربرداشت نہ کرسکے۔ایک طرف ان کی مہمان نوازی اورمہمانوں کی خاطرداری کو دیکھوکہ فوراً گائے ذبح کرکے ان کے سامنے رکھ دیتے ہیں۔اورجب وہ نہیں کھاتے تو ان کے دل میں گھبراہٹ پیداہوجاتی ہے کہ مباداوہ ناراض ہی نہ ہوگئے ہوں۔اورمجھ سے کوئی کوتاہی ان کی خدمت میں نہ ہوگئی ہو۔لیکن دوسری طرف جب وہی معزز مہمان فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِيْنَ کہتے ہیں تونہایت جوش اورغیرت سے بول اٹھتے ہیں کہ مومن کبھی خدا کی رحمت سے مایوس نہیں ہوسکتا۔یہ انبیاء کی غیر ت ایمانی کا مقام ہے ہرمومن کو دین کے معاملہ میں ایسی ہی غیرت اپنے دل میں پیداکرنی چاہیے۔حضرت ابراہیم ؑکی جگہ اگر کوئی دوسراہوتا توکہتا کہ کیا کروں بوڑھا ہوں میرے قویٰ مضمحل ہوچکے ہیں۔اس لئے یقین نہیں آتا مگروہ یہ کہتے ہیں کہ جب تک بندوں کی طرف سے خبرہو میںاسے قابل تحقیق سمجھتاہوں لیکن اللہ تعالیٰ کی طر ف سے خبرہوتو باوجود مضمحل قویٰ کے میں اس پر پورایقین رکھتا ہوں۔قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ۰۰۵۸ (پھر)کہا (کہ اچھا)تواے (خداکے )فرستادو(وہ)تمہارااہم کام کیا ہے(جوتمہارااصل مقصدہے)۔حلّ لُغَات۔الخَطبُ۔اَلْـخَطْبُ الشَّانُ۔شان۔والْاَمْرُ صَغُرَاَوْ عَظُمَ۔ہر اہم امر خوا ہ چھوٹا ہو یا بڑا۔وَمِنْہُ ھٰذَا خَطْبٌ یَسِیْرٌ وخَطْبٌ جَلِیْلٌ اور خَطْبٌ یَسِیْرٌ اور خَطْبٌ جَلِیْلٌ انہی معنوں میں استعمال ہوتاہے یہ اصلی کام چھوٹاہے اوریہ بڑا۔سَبَبُ الْاَمْرِ۔کسی امر کاسبب وَقِیْلَ الْخَطْبُ اِسْمٌ لِلْاَمْرِ الْمَکرُوْہِ دُوْنَ المَحْبُوْبِ اوربعض محققین لغت کہتے ہیں کہ ناپسندیدہ امر کے لئے بطوراسم کے بولاجاتاہے۔وَقِیْلَ ھُوَالمَکْرُوْہُ وَالْمَحْبُوْبُ جَمِیْعًا اوربعض کہتے ہیں کہ ناپسندیدہ امر اورپسندیدہ دونوں کے لئے بولا جاتا ہے۔(اقرب) تفسیر۔جب یہ معاملہ صاف ہوگیا کہ انہیں نہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مہمانی میں کوئی کمی نظرآئی تھی اورنہ کوئی بر ی خبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے لائے تھے۔توحضرت ابراہیم علیہ السلام نے فورًا سمجھ لیا کہ ان کے آنے کی اصل غرض کچھ اورہے۔کیونکہ مجھے بیٹے کی بشارت دینے کے لئے آتے توایسے غمزدہ کیوں ہوتے؟پس معلوم ہوتاہے ان کا پیغام کسی اورشخص کے لئے بھی ہے اور وہی اصل پیغام ہے اورہے بھی غم کا۔تبھی یہ کھانانہیں کھاسکے۔