تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 29 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 29

کی طرف لوٹا دیا۔پس مَرَدّ مصدر کے جو اسم فاعل کے معنوں میں استعمال ہوا ہے یہ معنے ہوں گے ہٹانے والا، واپس کرنے والا۔(اقرب) اور لَامَرَدَّ لَہٗ کے معنے ہوں گے اسے کوئی ہٹانے والا نہیں۔وَالٍ۔وَلِیَ سے اسم فاعل ہے اور وَلِیَ الشَّیْ ءَکے معنے ہیں مَلَکَ اَمْرَہٗ وَقَامَ بِہٖ۔کسی بات کا مالک بنا اور اس کی ذمہ داری کو اٹھایا۔فُلَانًا وَعَلَیْہِ۔نَصَرَہٗ۔اور وَلِیَ فُلَانًا کے معنے ہیں اس کی مدد کی۔فُلَانًا وَلَایَۃً۔اَحَبَّہٗ اور جب وَلَایَۃٌ مصدر ہو تو اس کے معنے ہوں گے محبت کی۔(اقرب) پس وَالٍ کے معنے ہوں گے (۱) مددگار۔(۲)نگران (۳)محافظ۔تفسیر۔لَہٗ مُعَقِّبَاتٌ کی ضمیر آنحضرت ؐ کے لئے ہے لہ کی ضمیر میرے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات کی طرف پھرتی ہے یعنی جیسے بادشاہوں کے گرد پہرہ دار ہوتے ہیں ویسے ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے پیچھے مُعَقِّبَاتٌ ہیں۔آنحضرت ؐ کی حفاظت کا ثبوت ان معنوں کی تائید ایک حدیث سے بھی ہوتی ہے۔چنانچہ ابونعیم نے الدلائل میں اور طبرانی نے اپنی معجم کبیر میں نقل کیا ہے کہ عامر ابن طفیل اور عربد ابن قیس دو شخص حضورؐ کے پاس آئے۔عامر نے کہا کہ اگر میں مسلمان ہو جاؤں تو کیا ولایت امر یعنی اپنے بعد خلافت مجھے دے دی جائے گی؟ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ تمہاری اس شرط کا نتیجہ یہ ہوگا کہ خلافت تمہیں اور تمہاری قوم کو کبھی نہ ملے گی۔اس نے اس بات سے ناراض ہوکر کہا کہ پھر میں ایسے سوار لاؤں گا کہ تم یاد رکھو گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدا تمہیں اس کی توفیق ہی نہ دے گا۔اس پر وہ دونوں ناراض ہوکر چلے گئے۔راستہ میں عربد نے کہا آؤ پھر واپس چلیں۔میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو باتوں میں لگاؤں گا تم پیچھے سے تلوار کے ذریعہ سےان کا کام تمام کر دینا۔عامر نے کہا کہ اس طرح بڑا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔اور آپؐ کے ساتھی ہمیں قتل کر دیں گے اس نے جواب دیا کہ کوئی خطرہ کی بات نہیں۔ہم دیت دے دیں گے۔چنانچہ وہ دونوں واپس آئے۔عربد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کرنے لگا اور عامر نے چاہا کہ آپ ؐ کو پیچھے سے تلوار مار دے مگر وہ تلوار سونت کر رہ گیا اور وار نہ کرسکا۔حدیثوں میں تو آتا ہے کہ اس کے ہاتھ پر فالج گرا۔لیکن چونکہ انہی حدیثوں میں یہ ذکر بھی ہے کہ بعد میں وہ سوار ہوکر گیا اور ہاتھ کا استعمال کرتا رہا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فالج نہیں گرا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے دل پر رعب طاری کر دیا اور اسے حملہ کرنے کی جرأت نہ ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رعب سے اس کا ہاتھ کھڑا کا کھڑا رہ گیا۔لکھا ہے کہ اتنے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مڑ کر دیکھا تو اس نے ہاتھ تلوار کے قبضہ پر رکھا ہوا تھا۔حضور اس کے