تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 303 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 303

اِذْ اَمَرْتُکَ(الاعراف:۱۳)تجھے باوجود میرے حکم کے آدم کو سجدہ کرنے سے کس بات نے روکاہے۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ فرشتوں کے حکم میں ابلیس کا حکم بھی شامل تھا۔کیونکہ وہ بھی دوسری مخلوق کی طرح فرشتوں کے تابع ہے۔آدم ا و رابلیس کے واقعہ کااصل مقام توسورئہ بقرہ ہے اسے دیکھناچاہیے۔مگر میں مختصراً ایک بات یہاں بھی بیان کردیتاہوں اوروہ یہ ہے کہ یہ گفتگو جواس جگہ بیا ن کی گئی ہے ضروری نہیں کہ اسی طرح ہوئی ہو۔آدم اور ابلیس کے واقعہ کی حقیقت کو ظاہر کرنے کے لئے مکالمہ کا رنگ دیا گیا ہے مذہبی محاورہ میں خصوصاً اورعربی زبان میں عموماً یہ طریق استعمال کیا جاتا ہے کہ کسی واقعہ کی حقیقت کو ظاہرکرنے کے لئے اسے مکالمہ کارنگ دے دیاجاتاہے۔حالانکہ مکالمہ فی الحقیقت کو ئی نہیں ہواہوتا۔قال کے استعمال کی وسعت چنانچہ عربی زبان میں قال کالفظ عام طورپر اس طرح ا ستعمال ہوتاہے مثلاً عرب کہتے ہیں۔اِمْتَلَأَ الْحَوْضُ فَقَالَ قَطْنِیْ کہ جب حوض پانی سے بھر گیا۔تواس نے کہا۔کہ بس بس اب زیادہ پانی نہ ڈالو۔اس کا یہ مطلب نہیںکہ حو ض زبان سے بولا۔بلکہ یہ کہ حوض نے زبانِ حال سے بتایاکہ میں بھر گیاہوں(لسان العرب)۔قال کے سواء اورالفاظ بھی عربی میں استعمال ہوتے ہیں جن میں بظاہر ایک ارادی فعل کااشارہ ہوتاہے۔مگرمراد صرف صور ت حال کا بیان کرنا ہوتاہے۔مثلاً سورئہ کہف میں آتاہے۔کہ حضرت موسیٰ اوران کے ساتھی ایک گائوں میں گئے۔فَوَجَدَ افِیْھَا جِدَارًا یُّریْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ(الکہف :۷۸) انہوں نے وہاں ایک دیوار پائی جو گرنے کاارادہ کررہی تھی۔اب یہ ا مر ظاہر ہے کہ دیوار میں دماغ نہیں کہ وہ ارادہ کرے۔اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ دیوار کی حالت بتاتی تھی کہ وہ گرجائے۔امام ابو منصورثعالبی جولغت عر ب کے امام ہیں۔اپنی کتاب فقہ اللغۃ میں لکھتے ہیں کہ ابوفراس مشہور ادیب دل سے اسلام کا منکر تھا۔اوراس کامشغلہ یہی تھا کہ قرآن کریم پر اعتراض کرتا رہے۔ایک دفعہ ابوالعباس احمد بن حسین (جوخاندان عباسیہ کا ایک وزیر تھا )کے دربار میں ہم بیٹھے تھے اوروزیر کی آمد کاانتظار کررہے تھے۔اسی دوران میں ابوفراس نے مجھ سے مخاطب ہوکرکہا کہ کیاکسی عرب نے کسی عقل نہ رکھنے والی چیزکے بارہ میں کبھی کہا ہے کہ اس نے ارادہ کیا۔میں نے کہا عرب بعض دفعہ غیر ذی روح کے متعلق کہتے ہیں۔اس نے یوں کہا جیسے مثال ہے۔اِمْتَلَأَ الحوضُ فقال قَطْنِی۔حالانکہ حوض توبولتا ہی نہیں اس نے کہا۔میں قول کا ذکر نہیں کرتا۔وہ تو بیشک درست ہے۔مگریہ بتائو عقل نہ رکھنے والی اشیاء کی نسبت کبھی اراد ہ کالفظ آتا ہے۔اس کی غرض یہ تھی کہ آیت یُرِیْدُ اَنْ یَنْقَضَّ َّ غلط ثابت ہو۔اللہ تعالیٰ نے اس وقت میری مدد کی اورعرب کے شاعر الرّاعی کا شعر میرے ذہن میں آگیا جو میں نےاس کے سامنے پڑھا۔اوروہ شعر یہ ہے۔