تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 302
اورسب مخلوق اس کے تابع کی گئی ہے۔پس فرشتوں کو جو علّتِ اولیٰ ہیں۔چاہیے کہ انسان جو کام کرے اس کے مطابق نتائج نکالتے جائیں۔گویاقانون قدرت کے ماتحت ہرانسانی فعل کاخواہ وہ براہی ہو۔نتیجہ نکالنے کافرشتوںکو حکم دیاگیاہے اور اس حصہ میں سب انسانوں کے انہیں تابع کیا گیا ہے یہ تو عام قانون ہے۔لیکن جب انبیاء کے زمانہ میں تقدیر خاص جاری ہوتی ہے۔توفرشتوں کایہ بھی فرض ہوتاہے کہ اس زمانہ کے آدم یعنی نبی وقت کی تائید کریں۔اوراس کے دشمنوں کو ناکام بنائیں۔فَسَجَدَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ۰۰۳۱ جس پر سب کے سب فرشتوں نے(اس کی ) کامل فرمانبرداری اختیارکرلی۔اِلَّاۤ اِبْلِيْسَ١ؕ اَبٰۤى اَنْ يَّكُوْنَ مَعَ السّٰجِدِيْنَ۰۰۳۲ سوائے ابلیس کے (کہ )اس نے (اس کی)کامل فرمانبرداری اختیار کرنے والوں کے ساتھ ہونے سے انکارکردیا۔حلّ لُغَات۔اِبْلِیْسَ۔ابلیس اَبْلَسَ مِنْ رَحمۃِ اللہِ کے معنے ہیں۔یَئِسَ۔ناامید ہوگیا۔اوراَبْلَسَ فِی أَمْرِہِ کے معنی ہیں۔تَحَیَّرَ۔حیران ہوگیا۔وَقِیْلَ اِبْلِیْسُ مِنْ اَبْلَسَ بِمَعْنَی یَئِسَ وَتَحَیَّرَ۔یعنی اَبْلَسَ کے معنی ناامیداورحیران ہونے کے ہیں۔اور اِبلیس اسی سے بناہے۔یعنی ناامید اورحیران۔اس نام سے یہ بتانا مقصود ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہوگیا ہے۔اورحیران رہ گیا ہے۔جَمَعُہُ اَبَالِیْسُ وَ اَبَالِسَۃٌ۔اس کی جمع اَبَالِیْسٌ اوراَبَالِسَۃٌ آتی ہے۔(اقرب) تفسیر۔اگر ملائکہ کو سجدہ کرنے کا حکم تھا تو ابلیس سے کیوں باز پرس کی گئی یہاں سوال ہوتاہے کہ فرمانبرداری کاحکم اگرصرف فرشتوںکو ہی تھا توابلیس سے سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے کیوں باز پرس کی گئی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب کسی بڑے افسر کو حکم ملاکرتاہے توا س کاماتحت بھی اس میں شامل ہوتاہے یہاں پر فرشتوں کو طبعی نتائج نکالنے کاحکم دیاگیا ہے یاآدم کے مشن کوکامیاب کرنے کا۔اس لئے جو ان سے ادنیٰ مخلوق ہے وہ خود بخود اس حکم میں آجاتی ہے۔جیسے بادشاہ ایک جرنیل کو حکم دیتاہے کہ فلاں جگہ جائو۔توسپاہی بھی اس میں شامل ہوتے ہیں۔سپاہی یہ کہہ کر انکار نہیں کرسکتے کہ ہمیں حکم نہیں دیاگیا۔فرشتوں کے حکم میں ابلیس کا حکم بھی شامل ہے پھر دوسری جگہ صاف فرما دیا ہے کہ مَامَنَعَکَ اَلَّا تَسْجُدَ