تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 301

کے نزدیک دوائیوںکے عرق کوبھی روح کہتے ہیں۔(لیکن یہ فن کی ناواقفی کی وجہ سے لکھا ہے کیمسٹری والے عرق کو روح نہیں کہتے۔بلکہ یاتو تیل والی ادویہ کاوہ حصہ جو عرق پر آجاتاہے اسے روح کہتے ہیں جیسے روح گلا ب یا پھر عرق کو باربار کشید کرکے اس کی تیز خوشبوکو عرق سے الگ کرلینے پر اسے روح کہتے ہیں جیسے روح کیوڑہ) (اقرب)جبرائیل کو جو صاحب اقرب الموارد نے روح لکھا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں جبرائیل کو روح کہاگیاہے اس لئے انہوں نے روح کے معنے جبرائیل قراردے دیئے۔جبرائیل کو روح کے نام سے پکارے جانے کی وجہ حالانکہ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ بعض دفعہ مسبب کانام سبب کو دے دیاجاتاہے اوراسی لحاظ سے جبرائیل کو روح کہا گیا ہے۔کیونکہ وہ روح یعنی کلام الٰہی کو لاتاہے۔غر ض روح کے معنے جبریل نہیں بلکہ استعارۃً وحی لانے والے فرشتے کو کہتے ہیں۔اصل میں روح وہ چیز ہے جس کے ذریعہ کسی کو حیا ت ممتاز ملے۔پس وہ روح جو حیوان کو باقی چیزوں سے ممتاز کررہی ہے۔اوروہ روح جس کے ساتھ انسان باقی حیوانوں سے ممتازہوتاہے ان دونوں پر لفظ روح کااطلاق ہوتاہے۔یاوہ روح جوانسان کو باخدابنادیتی ہے پس کلام الٰہی بھی ایک روح ہے جو انسان کو نئی زندگی بخشتاہے۔سٰجِدِیْنَ۔السُّجُوْدُ۔التَّذَلُّلُ۔سجود کے معنی تذلل اورماتحتی کے ہیں۔(مفردات) وَقَوْلُہٗ اُسْجُدُوْا لِاٰدَمَ قِیْلَ اُمِرُوْا بِالتَّذَلُّلِ لَہُ وَ الْقِیَامِ بِمَصَالِحِہٖ وَ مَصَالحِ اَوْلَادِہٖ۔آیت اُسْجُدُوْا لِاٰدَمَ میںفرشتوںکو حکم دیا گیا ہے کہ وہ آدم کے ماتحت چلیں۔اوراس کی مدد کریں اوراس کی اولاد کے لئے ممدّو معاون بنیں۔وَقَوْلُہُ اُدْخُلُوْا الْبَابَ سُجَّدًااَیْ مُتَذَلِّلِیْنَ مُنْقَادِیْنَ۔اورقرآن کریم میں جو یہ آیا ہے کہ تم اس دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوجائو۔اس کے معنے بھی یہی ہیں کہ تم فرمانبرداری کرتے ہوئے جائو۔(مفردات) تفسیر۔اس آیت میں ابتداء نسل انسان میں مکمل وجود کو بطور مثال پیش کیا گیا ہے اس آیت میں ابتدائے نسل انسانی میں جو مکمل وجود پیداہواتھا۔اس کو مثال کے طورپر پیش کیاہے کہ دیکھو! اسے بھی الہام ہوا۔اوراللہ تعالیٰ نے اس کے کام کو تکمیل تک پہنچانے کے لئے فرشتوںکو لگادیا۔پس یہ سلسلہ الہام اوراس کی حفاظت کا ابتداء عالم سے چل رہاہے۔فرشتوں کو آدم ؑ کی فرمانبرداری کے حکم سے مراد سب مخلوق کی فرمانبرداری ہے اس آیت میں ملائکہ کو سجدہ یعنی آدم کی فرمانبرداری کاجو حکم دیا گیاہے۔اس سے مراد سب مخلوق ہے کیونکہ تمام اسباب کی علّت اولیٰ ملائکہ ہی ہیں۔ان کے حکم میں سب کو حکم مل گیا۔اس حکم کایہ بھی مطلب ہے کہ اس دنیا میں آد م کو قدرت دی گئی ہے۔