تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 294
قوم کو پیغام پہنچادیا۔عرب سے ہزاروں میل دور کے بسنے والے تھے۔بعد میں نہیں کہا جاسکتا کہ انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کو ئی خبر ملی بھی یانہیں ملی۔اس وجہ سے وہ اسلامی جنگوں میں عملاً کوئی حصہ نہ لے سکے۔تیسرا ثبوت تیسراثبوت اس امر کا کہ یہ جنّ انسان تھے یہ ہے۔کہ اللہ تعالیٰ رسولوں کے متعلق فرماتا ہے کہ وہ مِنْ اَنْفُسِہِمْ اورمِنْہُمْ ہوتے ہیں یعنی جن کی طرف آتے ہیں انہی کی قوم کے ہوتے ہیں۔چنانچہ فرماتا ہے۔وَ يَوْمَ نَبْعَثُ فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا عَلَيْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِيْدًا عَلٰى هٰؤُلَآءِ(النحل :۹۰)یعنی قیامت کے دن ہر امت کارسول جوانہی میں سے ہوگا بطورگواہ لایاجائے گا۔اورمحمدؐ رسو ل اللہ کو امت محمدیہؐ اوراس زمانہ کے لوگوںپر بطور گواہ بھیجاجائے گا۔اگر جنّ بھی کوئی ایسی قو م ہے۔جوایمان لاتی ہے۔توا س پر گواہی کو ن دے گا؟موسیٰ توجنّ نہیں کہ ان جنّوں کے متعلق ان سے پوچھا جائے گاجو ان پر ایمان لائے تھے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم انسان تھے۔وہ جنّوں سے من انفسہم کی نسبت نہیں رکھتے۔پس آپ جنّوں کے متعلق شہید نہیں ہوسکتے۔من انفسہم سے مراد پہلے انبیاء کی نسبت سےان کی اقوام ہیں۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے آپ کے زمانہ کے بعدکے سب انسان۔پس جنّ اگر کو ئی انسانوں جیسی مکلّف مخلوق ہے تووہ یونہی رہ جاتے ہیں۔نہ ثواب کے مستحق نہ عذاب کے۔چوتھا ثبوت چوتھا ثبوت اس دعویٰ کی تائید میں یہ ہے کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ يَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ اٰيٰتِيْ وَ يُنْذِرُوْنَكُمْ۠ لِقَآءَ يَوْمِكُمْ هٰذَا(الانعام :۱۳۱)یعنے اے جنّوں اورانسانوں کی جماعتو! کیاتمہارے پاس تمہاری قوموں میں سے رسول نہیں آئے تھے جو تم کو میرے نشانات پڑھ کرسناتے تھے۔اورآج کے دن کے دیکھنے سے تم کو ہوشیارکرتے تھے ؟ا س آیت میں صاف لکھا ہے کہ جنوں کی طرف ان کی قوم کے نبی آئے اورانسانوں کی طرف انسان نبی۔اب اگر جنّ کوئی دوسری مخلوق ہے تواس آیت کے ماتحت نہ توموسیٰ ان کے نبی ہوسکتے ہیں۔نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم۔کیونکہ جنوں کی طر ف اس آیت کے ماتحت جنّ نبی ہی آئے تھے۔ہاں! اگرجنّوں سے انسانوں کاکوئی گروہ مراد ہو۔توپھر بے شک وہ موسیٰ ؑ اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مومن ہوسکتے ہیں۔پانچواں ثبوت پانچواں ثبوت ا س امر کاکہ عوام میں جو جنّ مشہور ہیں ان کاکوئی وجود نہیں۔اوریہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو جنّ ایمان لائے تھے وہ انسان ہی تھے یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جہنم کی نسبت فرماتا ہے فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِيْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ (البقرۃ :۲۵) دوزخ میں یاتو انسان ہوں گے یا پھر پتھر وغیرہ آگ کو بھڑکانے