تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 288
تھا اورملائکہ کا جواب باطن کو مدنظر رکھ کرہے۔مشرک ظاہر میں تویہی کہتے ہیں کہ ملائکہ خدا تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔اوران کو خوش کرنا بھی ان کے لئے ضروری ہے لیکن حقیقت تویہی ہے کہ نہ وہ ملائکہ کوجانیں نہ ان کی طاقتوں کویونہی ملائکہ کا ذکر بڑوںسے سن کر ایک خیالی وجود انہوں نے اپنے ذہن میں بنالئے اورخیال کیا کہ یہ ملائکہ ہیں اوراللہ کی بیٹیاں ہیں حالانکہ و ہ وجود محض ذہنی تھے۔نہ ملائکہ والے صفات ان میں تھے نہ کام تھے پس درحقیقت ان کی عبادت ملائکہ کے لئے نہ تھی بلکہ چند خیالی اورنظر نہ آنے والے وجودوں کے لئے تھی جنہیں عربی زبان میں جن کہہ سکتے ہیں۔ملائکہ کا جواباً یہ کہنا کہ لوگ جنوں کی پوجا کرتے ہیں پس ملائکہ نے جو جواب دیاہے وہ بھی درست ہے۔وہ کہتے ہیں کہ الٰہی ہماری انہوں نے کیاپوجاکرنی تھی ہم توتیرے بندے اورتیری حفاظت میں ہیں۔یہ توچند ایسے وجودوں کی پرستش کرتے تھے جو محض خیالی اورغیر مرئی ہیں۔اگراس قسم کے جنوں کا وجود ہوتاجس قسم کاعوام کہتے ہیں توپھر فرشتوں کایہ قول کہ وہ جنوں کی پرستش کرتے تھے جھوٹ ہو جاتا ہے کیونکہ مشرک یقیناً ملائکہ کو بنات اللہ قرار دے کر ان کی پرستش کرتے تھے اوراسی صورت میں اس پرستش کو جنوں کی پرستش کہاجاسکتاہے کہ جبکہ جنّ کے معنے خیالی اوربناوٹی وجود کے لئے جائیں۔اگرکہا جائے کہ وہ جنوں کی بھی پرستش کرتے تھے توگویہ درست ہے کہ بعض وجودوں کی پرستش مشرک جنّ کے نام سے بھی کرتے تھے مگریہاں وہ مراد نہیں ہوسکتی۔کیونکہ جنوں کی پرستش سے ملائکہ کی پرستش کی نفی تونہیں ہوجاتی۔مشرک توہزاروں قسم کے بت بناتاہے۔انسانوں کو بھی خداکہتاہے۔سورج چاند کوبھی۔دریائوںکو بھی۔ملائکہ کو بھی اپنے مزعومہ جنوں کوبھی۔پس جنوں کی پرستش کرنے کی وجہ سے ملائکہ کو یہ حق پیدا نہیں ہوتا کہ وہ اپنی پرستش کا انکارکریں۔یہ حق انہیں تبھی پیدا ہوتاہے جبکہ وہ پرستش جو اِن کے نام سے کی جاتی تھی کسی دلیل کی بناء پر کسی خیالی وجود کی طرف منسوب کی جاسکے اوریہی انہوں نے کہا ہے۔پس جنّ سے مراد اس آیت میں خیالی اورذہنی وجود کے ہیں جن کانام کفار نے ملائکہ رکھ لیاتھا مگر فی الواقع وہ ملائکہ نہ تھے۔جن کا لفظ ان اقوام کے لئے بھی بولا جا تا ہے جو شمالی سرد علاقوں میں رہتی ہیں جن چونکہ مخفی وجود کو کہتے ہیں اس لئے جن کالفظ قرآن کریم میںعربوں اوردوسری اقوام کے محاورہ کے مطابق ان اقوام کے لئے بھی بولاجاتاہے جوشمالی علاقوں میں اورسرد ممالک میں رہتی تھیں۔چونکہ لوگ بوجہ شدت سردی کے ان کے ممالک کی طرف سفر نہیں کرتے تھے۔اوروہ گرمی کی وجہ سے ادھر نہ آتے تھے۔نیز چونکہ سرد علاقوں میں رہنے کے سبب سے وہ زیادہ سفید رنگ والے اورشراب کے استعمال کی وجہ سے زیادہ سرخ ہوتے تھے ایشیا کے لو گ انہیں کو ئی الگ قسم کی