تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 284 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 284

(۲)سورئہ رحمن آیت ۱۶میں فرماتا ہے وَ خَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ جنوں کو ہم نے ایک لپٹیں مارنے والے آگ کے شعلے سے پیدا کیا ہے (۳)ابلیس کی نسبت بھی آتاہے کہ اُس نے اللہ تعالیٰ سے کہا کہ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍوَّ خَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْنٍ(الاعراف :۱۳و ص:۷۷)تونے مجھے تو آگ سے پیدا کیا ہے اورآدم کو پانی ملی ہوئی مٹی سے (۴)پھر ابلیس کی نسبت یہ بھی آتاہے کہ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ (الکہف :۵۱) وہ جنوں میں سے تھا پھر وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے نکل گیا۔معلوم ہواکہ ابلیس کی ناری طینت اس کے جنوں میں سے ہونے کے سبب سے تھی۔(۵)جنّ شہوانی قوتیں بھی رکھتے ہیں چنانچہ سورئہ رحمن میں جنت کی عورتوں کی نسبت فرماتا ہے کہ لَمْ یَطْمِثْہُنَّ اِنْسٌ قَبْلَھُمْ وَلَاجَانٌّ (الرحمن:۵۷) ان کو نہ انسانوں ،نہ جنوں نے اس سے پہلے کبھی چھواہوگا(یہ ذکرا س رکوع میں دودفعہ آیا ہے )(۶)سورئہ رحمن میں ایک یوم حساب کا ذکر ہے اس کے ذکر میں فرماتا ہے فَيَوْمَىِٕذٍ لَّا يُسْـَٔلُ عَنْ ذَنْۢبِهٖۤ اِنْسٌ وَّ لَا جَآنٌّ(الرحمن :۴۰) اس دن انسانوں یا جنوں سے ان کے گناہوں کے بارہ میں پوچھانہ جائے گا بلکہ ان کے گناہوں کی وجہ سے ایک عام تباہی ان پر لائی جائے گی۔(۷)جنّ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے پیداکئے گئے ہیں۔فرماتا ہے وَمَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّالِیَعْبُدُوْنِ (الذاریات :۵۷)(۸)مشرک لوگ اللہ تعالیٰ اور جنات کے درمیان رشتہ داری بتاتے ہیں۔وَ جَعَلُوْا بَيْنَهٗ وَ بَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا(الصافات :۱۵۹)(۹)مشرک لوگ جنوں کو خدا تعالیٰ کا شریک بتاتے ہیں وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِيْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَيْرِ عِلْمٍ۔(الانعام :ا۱۰) انہوں نے جنوں میں سے اللہ تعالیٰ کے شریک تجویز کئے ہوئے ہیں حالانکہ اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے اوربغیرکسی علم کے انہوں نے اللہ کے لئے لڑکے اورلڑکیا ں اپنے خیالوں میں بنارکھی ہیں۔اسی طرح آتاہے۔بَلْ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّ (سبا:۴۲)قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھے گاکہ کیامشرک انسان تم کو پوجتے تھے تووہ کہیں گے کہ نہیں بلکہ یہ جنوں کو پوجتے تھے (۱۰)جنوں میں سے ایک گروہ لوگوں کو گمراہ بھی کرتاہے اَلَّذِیْ یُوَسْوِسُ فِیْ صُدُوْرِ النَّاسِ مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ(الناس:۶،۷)نیز وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْارَبَّنَآ اَرِنَاالَّذَیْنِ اَضَلّٰنَا مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ نَجْعَلْھُمَا تَحْتَ اَقْدَامِنَالِیَکُوْنَامِنَ الْاَسْفَلِیْنَ (حٰم السجدہ :۳۰)اورکفار کہیں گے کہ اے ہمارے رب !ہمیں ذراوہ جن اورانسان جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا دکھا توسہی۔کہ ہم انہیں اپنے قدموں تلے روندیں تاکہ وہ ذلیل ترین وجود ہو جائیں۔نیز فرمایا۔وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيٰطِيْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ يُوْحِيْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا(الانعام :۱۱۳) اوراسی طرح ہم نے ہرنبی کے دشمن بنائے ہیں جنّ شیطان بھی۔اورانسان شیطان بھی۔وہ ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کے لئے جھوٹی باتیں سناتے رہتے ہیں۔نیز فرمایا يٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ