تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 283

جاسکتاہے اوران سے کام بھی لیاجاسکتا ہے (قرطبی سورۃ الحجر زیر آیت فسجد الملائکۃ)۔قرآن مجید میں جنوں کا ذکر قرآن کریم میں جہاں تک الفاظ کا تعلق ہے فرشتوں،شیطانوں اورجنّوں تینوں کا ذکر ہے اوریہ بھی معلوم ہوتاہے کہ جن نیک بھی ہوتے ہیںاوربد بھی جیساکہ سورئہ جنّ میں آتا ہے مِنَّا الصّٰلِحُونَ وَمِنَّا دُوْنَ ذٰلِکَ(الجن :۱۲)یعنی جنوں نے ایک دوسرےسے کہاکہ ہم میں سے نیک بھی ہیں اوربرے بھی اوریہ بھی معلوم ہوتاہے کہ جن انسانوں کی تابع بھی ہوجاتے ہیں اوران کے کام کرتے ہیں جیسے حضرت سلیمانؑ کے بارہ میں آتاہے وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ يَّعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ(سبا :۱۳) یعنے جنوں میں سے بھی کچھ افراد حضرت سلیمانؑ کے حکم کے ماتحت اوراللہ تعالیٰ کی اجازت سے ان کے کام کیاکرتے تھے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ جنّ حضرت موسیٰ پر بھی ایمان لائے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لائے۔احادیث میں جنوں کا ذکر احادیث میں بھی جنوں کا ذکر ہے لکھا ہے کہ جنوں کا ایک قافلہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے کے لئے آیا (مسلم کتاب الصلٰوۃ باب الجہر بالقرأۃ۔۔۔)اوریہ بھی آتا ہے کہ ہڈی گوبر وغیرہ جنّوں کی غذا ہیں اس لئے ان سے استنجا نہیں کرناچاہیے۔(ترمذی ابواب الطہارۃ باب کراھیۃ ما یستنجی بہ و ابوداؤد کتا ب الطہارۃ باب ما ینھی عنہ ان یستنجی بہ) علامہ سندھی مصنف مجمع البحار لکھتے ہیں کہ امام ابوحنیفہ ؒ کایہ مذہب تھا کہ نیک جنّات صرف عذاب سے نجا ت پائیں گے جنت میں نہیں جائیں گے۔لیکن امام مالکؒ اورامام بخاریؒ کایہ مذہب تھا کہ وہ جنت میں بھی جائیں گے اورانہیں ثواب ملے گا۔مجمع البحا ر میں ہی ابن عربی کاقول نقل کیا ہے کہ سب مسلمانوں کایہ مسلّمہ مسئلہ ہے کہ جنّ کھاتے پیتے اورنکاح کرتے ہیں۔(مجمع البحار زیر لفظ جن) جن کے لفظ کاقرآن کریم اور احادیث میں کئی معنوں میں استعمال میرے نزدیک جنّ کا لفظ قرآن کریم اوراحادیث میں کئی معنوں میں استعمال ہواہے۔اوریہ مختلف استعمال جنّ کے مختلف معنوں پر مبنی ہیں یعنی ’’ مخفی ہونے والا‘‘یا ’’مخفی کرنے والا‘‘ان معنوں کے رو سے مختلف اشیاء یا ارواح یاانسان جو عام طورپر نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔یا وہ اشیاء یا ارواح یاانسان جو دوسری اشیاء پر پردہ ڈالتے ہیں جنّ کہلاتے ہیں۔اور چونکہ یہ فعل مختلف وجودوں سے ظاہرہوتاہے۔اس لئے مختلف چیزوں یا ہستیوںکا نام اسلامی اصطلاح میں جنّ رکھا گیا ہے۔قرآن کریم میں مختلف مقاموں میں جنات کا ذکر قرآن کریم میںجنات کا ذکر مندرجہ ذیل مقامات میں آتا ہے (۱)سورۃ حجر کی زیر تفسیر آیت کہ اس میں جنات کی پیدائش کا ذکر ہے کہ وہ نارِ سمومْ سے پیداہوئے