تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 282
صحف موسیٰ میں فرشتوں کا ذکربھی موجود ہے اورشیطانوں کا بھی اورگندی ارواح کابھی۔چنانچہ فرشتو ں کا ذکر حضرت یعقوب کی خواب میں ہے ’’اورخواب دیکھا اور کیا دیکھتاہے کہ ایک سیڑھی زمین پر دھری ہے اوراس کا سراآسمان کو پہنچا ہےاوردیکھوخداکے فرشتے اس پر سے چڑھتے اُترتے ہیں۔‘‘ (پیدائش باب۲۸آیت ۱۲) شیطان کا ذکر حضرت آدم کے قصہ میں آتاہے جب شیطان نے حضرت حوّاکو ورغلا کر ممنوع درخت کا پھل کھلایا (پیدائش باب ۳ آیت ۱ تا ۵)۔اس جگہ اس کانام سانپ رکھا ہے لیکن مراد شیطان ہی ہے اورسانپ سے جن یا بدروحوں کو مراد لینا قدیم محاورہ ہے۔عربی زبان میں بھی سانپ کاایک نام جانّ ہے اورہندوئوں یونانیوں وغیرہ میں بھی یہ خیا ل پایا جاتا ہے کہ بعض سانپ جنات کی قسم سے ہیں۔بد ارواح کا ذکر بائیبل میں بدارواح کا ذکر استثناء باب ۳۲آیت ۱۷میں یوں آتاہے’’انہوں نے شیطان کے لئے قربانیاں گزرانیں نہ خداکے لئے بلکہ ایسے معبودوں کے لئے جن کو آگے وے نہ پہچانتے تھے جو نئے تھے اورحال میں معلوم ہوئے اوران سے تیرے باپ دادے نہ ڈرتے تھے۔‘‘اس جگہ شیطانوں سے مراد بدارواح ہیں کیونکہ لکھا ہے کہ بنی اسرائیل انہیں پہلے نہ جانتے تھے۔ورنہ شیطانوں کو تووہ جانتے تھے۔یہود کے لٹریچر میں جنات کا ذکر بائبل کے علاوہ یہود کے لٹریچر میں جنّات پر خاص زورہے شرکی ربیّ الیعذر میں لکھا ہے کہ جنّ شمالی علاقوں میں رہتے ہیں اورمیگاتی میں لکھاہے وہ فرشتوں کی طرح اُڑتے ہیں۔شبات طالمود میں لکھاہے۔انسان ان سے تعلق رکھ سکتے ہیں اوروہ آسمان کی خبریں سن لیتے ہیں (جیوئِشْ انسائیکلو پیڈیا زیر لفظ ڈیمن DEMON) اناجیل میں جنوں کا ذکر مسیحیوں میں بدارواح کا ذکر خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اناجیل میں بدروحوں کے نکالنے کو یسوع کاخاص کام بتایا ہے بلکہ ان کے بعد ان کے حواری بھی بدروحوں کو نکالتے رہے۔اناجیل کے بیان کے مطابق تویو ں معلوم ہوتاہے کہ اس زمانے میں جنّات دیوانے ہورہے تھے ہرشہراور ہر قصبہ میں لوگوںپر آکر قبضہ کرلیتے تھے اوربعض دفعہ تو سینکڑوں آدمیوں پر یکدم قبضہ کرلیتے تھے (دیکھو متی باب۸،۶و۲۸مرقس باب۱،۳۲و ۳۴) مسلمانوں کے نزدیک نظر نہ آنے والی ارواح کی تین اقسام مسلمانوں کا عام عقیدہ یہ ہے کہ نظر نہ آنے والی ارواح تین قسم کی ہیں (۱) فرشتے جو سب نیک ہیں بعض کے خیال میں ان میں سے بعض بد بھی ہوجاتے ہیں جیسے کہ شیطان کہ وہ پہلے فرشتہ تھایاہاروت ماروت(۲)شیطان کہ وہ سب برے ہوتے ہیں (۳)جنّ کہ وہ نیک بھی ہوتے ہیں او ر بد بھی جو جنّ بدہوتے ہیں وہ لوگوں پر قبضہ کرلیتے ہیں اوربعض تدابیر سے جنّوں پر قبضہ بھی کیا