تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 273
میری ذاتی رائے یہ ہے کہ بدل کے معنوں کی صورت میں مِنْحمائٍ مسنون کو عطف بیان قراردینا زیادہ صحیح ہے کیونکہ بدل میں مقصود دوسر ااسم ہوتاہے۔اورپہلا اسم اس کے مفہوم کو قریب کرنے کے لئے لایاجاتاہے۔اورعطف بیان میں مقصود اسم اول ہوتاہے اوردوسرا اسم اس کے مفہوم کو واضح کرنے کے لئے لایاجاتاہے۔اوراس آیت میں میرے نزدیک پہلا جملہ یعنی من صلصالٍ اصل مقصود ہے اورمن حمائٍ مَّسْنُون اس کے بیان کے طورپر استعمال ہواہے۔اس ترکیب کے لحاظ سے اس آیت کے یہ معنے بنیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ میں ایک بشر بنانے والاہوں جو آواز دینے والی مٹی سے پیدا ہوگایعنے ایسے کیچڑ سے جو ایک خاص صورت میں ڈھالاگیاہو یعنی انسانی پیدائش ایسی پانی ملی ہوئی مٹی سے ہے جسے ایک خاص شکل دی گئی ہے۔اوروہ کھوکھلی ہے جسے ٹھکورنے سے وہ آواز دیتی ہے۔اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ اول انسان مٹی سے پیداہواہے۔دوم اسے خاص ترکیب دے کر ایسی طرح تیار کیاگیاہے کہ وہ اپنے اندر خلاء رکھتا ہے۔سوم جب اسے ٹھکوراجاتاہے تو وہ آوازدیتاہے۔اس کامطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہنے کی طاقت ہے جس طرح خلادار چیز کو ٹھکوریں تووہ بولتی ہے۔اسی طرح انسان کو جب اللہ تعالیٰ ٹھکورتاہے یعنے اس کا امتحان لیتا ہے توجو انسان سلامت او راچھاہوتاہے وہ اللہ تعالیٰ کے ٹھکورنے پر جواب دیتاہے اوراس میں سے جواباً آواز آتی ہے اوریہی خصوصیت انسان کی ایسی ہے جو اسے دوسری اشیاء سے ممتاز کرتی ہے یعنی انسان کے اند ر اللہ تعالیٰ کے امتحان کو قبول کرنے کی اورپھر اس کا جواب دینے کی قابلیت ہے۔یہ کہ وہ صورت جس میں انسان پہلے بنایاگیا اورجس پر حَمَائٍ مَّسْنُون کے الفاظ دلالت کرتے ہیں کیا تھی اس کاقرآن کریم نے ذکر نہیں کیا۔ممکن ہے وہ بالکل غیر مرئی ہو اورخورد بینی ہو۔بہر حال جو صورت مٹی سے انسان کو ابتداً ملی۔وہ اسی وقت سے صلصال تھی یعنے یہ قابلیت رکھتی تھی کہ خدا تعالیٰ اس کا امتحان لے اوروہ اس کا جواب دے۔قرآن کریم انسانی پیدائش میں ارتقاء کا قائل ہے اس مضمون سے ظاہر ہے کہ قرآن کریم انسانی پیدائش میں ایک ارتقا ء کاتوقائل ہے۔مگر ایسے ارتقاء کانہیں جو اتفاقاً ہوگیابلکہ وہ انسانی پیدائش کو درجہ بدرجہ توبتاتا ہے لیکن یہ نہیں تسلیم کر تا کہ انسان بننے والا ذرہ کسی وقت بھی انسان کے سوا کچھ اورتھا بلکہ اس کے نزدیک وہ جب بھی اورجس صورت میں بنا تھا اس میں انسان بننے اورالہام کو قبول کرنے کی قابلیت موجود تھی۔اپنے تما م دوروں میں ایک خاص مقصد کی طرف وہ قدم بڑھا رہاتھا اورڈارون کی تھیوری کے مطابق یہ نہ تھا کہ اس کے بعض حصے نامکمل صورت میں الگ شاخوں میں تقسیم ہوتے گئے ہوں اور کچھ اچھے حصے الگ ہوکر آگے بڑھتے گئے ہوں۔