تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 272
ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ صلصال اس پانی کو کہتے ہیں جو زمین پر گر کرخشک ہوجائے اوروہ مٹی جس پر وہ گرے خشک ہوکر آواز دینے لگے (خشک زمین کی پپڑیاں) وَالصَّلْصَالُ۔الطِّیْنُ اَلْیَابِسُ یَصِلُّ اَیْ یُصَوِّتُ عِنْدَ النَّقْرِ اَوِ الْمُنْتِنُ(مجمع البحار زیر مادہ صلل)۔صلصال اس خشک مٹی کو کہتے ہیں جو ٹھکرانے پر آواز دیوے اسی طرح سڑی ہوئی مٹی کو بھی کہتے ہیں۔حَمَأٌ:حَمَأَ یَحْمَأُ الْبِئْرَ۔نَزَعَ حَمْاَتَھَا حَمْاَالْبِئْرَ کے معنے ہیں کنوئیں میں سے گارا نکالا۔اَلْحَمَأُ کُلُّ مَاکَانَ مِنْ قِبَلِ الزَّوْجِ مِثْلَ الْاَخِ وَالاَبِ اورحَمأخاوند کی طرف سے رشتہ داروں کو بھی کہتے ہیں جیسے خاوند کابھائی یاباپ وغیرہ ہما۔اَلْحَمَأُ:الطِّیْنُ الْاَسْوَدُ اورحمأ کالی مٹی کو بھی کہتے ہیں۔(اقرب) مَسْنُونٍ:مَسْنُوْنُ سَنَّ یَسُنُّ سَنًّاسے اسم مفعول ہے اورسَنَّ السِّکّینَ کے معنے ہیں اَحَدَّہُ چھر ی کو تیز کیا۔وَھٰذَامِمّایَسُنُّکَ عَلَی الطَّعَامِ ایْ یَشْحَذُکَ عَلٰی أَکْلِہِ وَیُشَھِّیہِ اِلَیْکَ یعنی یہ چیز ان چیزوں میں سے ہے جو تجھے کھانے کے لئے تیار کردے گی اوراس کی تجھے رغبت دلائے گی۔سَنَّ الطِّیْنَ۔عَمَلَہُ فخَّارًا اور سَنَّ الطِّیْنَ کے معنے ہیں کہ مٹی کو پکاکر سخت کردیا۔سَنَّ الشَّیْءَ :سَھّلَہُ کسی چیز کو آسان کردیا۔صَوَّرہُ یا اس کی شکل بنادی۔سَنَّ عَلَی الْقَوْمِ سُنَّۃً۔وَضَعَہَا کوئی طریق مقرر کیا (اسی سے لفظ مسنون نکلا ہے کہ جس کامفہوم یہ ہوتاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لئے یہ طریق مقرر کیا ہے )اورمسنون کے معنے ہیں۔المُنْتِنُ یعنی بدبودار چیز اَلْمَسْنُوْنَۃُ الْاَرْضُ الَّتِیْ اُکِلَ نَبَاتُھَا اورایسی زمین کو بھی جس کاگھاس ختم ہوچکا ہو مسنون کہتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ میں من کے متعلق اختلاف اس آیت میں یہ جو فرمایا ہے مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ۔اس کے بارہ میں مفسرین میں اختلاف ہے کہ مِنْ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ میں مِنْ کے کیا معنے ہیں بعض نے کہا ہے کہ یہ اپنے مجرورکے ساتھ مل کر صفت ہے۔صَلصَال یعنی وہ صلصال جو حَمَائٍ سے بنا ہے (ابوالبقاء۔کشاف زیر آیت ھذا)بعض نے کہا ہے کہ حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ بدل ہے من صلصال کا (بحر محیط لأبی حیان و املاء ما من بہ الرحمن لابی البقاء) اس صورت میں اس کے یہ معنی ہوں گے کہصلصال سے ہماری مراد حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ ہے۔گویا پہلی ترکیب کے لحاظ سے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ انسان کی پہلی حالت حَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ کی تھی پھر اس سے صلصال بنا۔اوردوسری ترکیب کے لحاظ سے یہ معنے ہوںگے کہ صلصال اورحَمَاٍ مَّسْنُوْنٍ سے ایک ہی حالت کی طرف اشارہ کرنامطلوب ہے۔صرف مضمون کی وضاحت کے لئے دوہم معنی الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔