تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 264

یعنی ہر چیز جو اہل دنیا کی ضرورتوں کو پوراکرنے والی تھی وہ ہم نے اس میں رکھ دی اوروز ن کے معنے اندازہ کے بھی ہیں۔تواس لحاظ سے یہ معنے ہوں گے کہ ہر چیز اندازے کے مطابق ا س میں رکھ دی گئی ہے۔اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے وہ جانتا ہے کہ کس چیز کی اس میں ضرورت ہے اورکتنی ضرورت ہے۔اس نے کمیت اورکیفیت دونوں کو ملحوظ رکھا ہے۔اس آیت کا پہلی آیتوں سے تعلق اس آیت کا تعلق پہلی آیتوں سے یہ ہے کہ ان میں قرآن کریم کے نزول اوراس کی حفاظت کے غیر معمولی سامانوں کا ذکر تھا۔جو ایک آسمانی مثال سے ثابت کیا گیا تھا۔زمین کے نشو نما پانے اور اس کو کمزوری سے بچانے کے لئے تین سامان اب زمین کی مثال دی کہ زمین میں بھی ہم نے اس کے نشوونماپا نے اورا سکے کمزوری سے بچانے کے لئے غیر معمولی سامان پیداکررکھے ہیں کچھ بیرونی ہوتے ہیں کچھ اندرونی۔(۱)آسمان سے گرنے والا مادہ(۲)پہاڑ(۳)اس کی اندرونی طاقتیں۔یہی حال الٰہی کتاب کا ہوتا ہے۔وہ آسمان سے مدد پاتی رہتی ہے اس کی تائید میں ائمہ لگے رہتے ہیں اوروہ اپنے اندر ذاتی خوبیاں رکھتی ہے۔جن کی وجہ سے اس کے مطالب ہر طبقہ کے لوگوں کے لئے جاذب رہتے ہیں۔وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِيْهَا مَعَايِشَ وَ مَنْ لَّسْتُمْ لَهٗ اوراس میں ہم نے تمہارے لئے اور(ہر)اس (مخلوق)کے لئے (بھی)جسے تم رزق نہیں دیتے معیشت کے بِرٰزِقِيْنَ۰۰۲۱ سامان پیداکئے ہیں۔حلّ لُغَات۔مَعَایِش۔مَعَایِش مَعِیْشَۃٌ کی جمع ہے۔اورمَعِیْشَۃٌ کے معنے ہیں۔اَلَّتِیْ تَعِیْشُ بِھَا مِنَ الْمَطْعَمِ وَالْمشْرَبِ۔وہ کھانا او رپیناجس سے انسان زندہ رہتاہے۔وَمَا تَکُوْنُ بِہِ الْحَیَاۃُ جس پر زندگی کادارومدار ہو۔وَمَا یُعَاشُ بِہِ مِنْ طَعَامٍ وَنَحْوِہِ مِمَّا یُکْسَبُ۔کھانااوراس جیسی اورضروریات جن کو انسان کما کر حاصل کرتا ہے۔اس پر بھی معیشت کالفظ بولاجاتا ہے۔اَوْیُعَاشُ فِیْہِ مِنْ مَکَانٍ وَزَمَانٍ وہ وقت یا جگہ جس میں زندگی بسر کی جائے۔(اقرب) تفسیر۔زمین میں تمہارے لئے ہر قسم کے سامان پیداکئے گئے ہیں۔اوران کارز ق بھی پیدا کیاگیا ہے