تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 263

اس کو پھیلایاہے۔مزید تشریح کے لئے دیکھو سورۃ رعد آیت نمبر ۴۔مَوْزُوْنٌ وَزَنَ سے اسم فاعل ہے۔اوروَزَنَہُ۔وَزَنًاکے معنے ہیں رَازَثِقَلَہُ وخِفَّتَہُ وَامْتَحَنَہُ بِمَا یُعَادِ لُہُ کہ کسی چیز کے بھاری اورہلکے ہونے کا اندازہ کیا۔اوراس کے بالمقابل وزن کی چیز سے اس کے وزن کا اندازہ معلوم کیا (جیسے بٹّوں سے تولتے ہیں )وَفِی الْاَسَاسِ’’وَزَنْتُ الشَّیْءَ وَرَزَنْتُہُ وَثَقَلْتُہُ اِذَارُزْتَہُ بِیَدِکَ لِتَعْرِفَ وَزَنَہُ ‘‘اوراساس میں یوں لکھا ہے۔کہ وَزَنَ۔رَزَنَ اورثَقَلَ ہم معنے ہیں۔اوران کے معنے ہیں کہ کسی چیز کو ہاتھ میں لے کر اس کے وزن کا اندازہ کیاجائے۔اور وَزَنَ تَمْـرَ النَّخْلَۃِ وزْنًا کے معنے ہیں۔خَرَصَہُ وَحَزَرَہُ کھجور کے پھل کی مقدار کا اندازہ کیا۔(اقرب) پس موزون کے معنے ہوں گے اندازہ کی ہوئی چیز۔وزن کی ہوئی چیز یامتناسب۔تفسیر۔زمین کو پھیلانے اور اس میں کھاد ڈالنے کا مطلب زمین کو ہم نے پھیلایاہے یااس میں کھاد ڈالی ہے۔دونوں معنے ہی اس آیت میں چسپاںہوتے ہیں زمین کو اللہ تعالیٰ نے انسانی ضرور ت کے مطابق پھیلایا ہے یعنی ا س قدر وسیع بنایاہے کہ باوجود گول ہونے کے وہ انسان کے لئے تکلیف دہ نہیں۔بلکہ اس کی گولائی کو وہ محسوس بھی نہیں کرتا اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ اس میں کھاد ڈالی ہے کیونکہ زمین نئی نئی طاقتیں دوسرے ستاروں سے حاصل کرتی رہتی ہے۔بلکہ علم ہئیت سے ثابت ہے کہ دوسرے سیاروں سے ذرات زمین پر گرتے رہتے ہیں اوراس کا حجم بڑا ہورہا ہے۔وہ بیرونی کھاد اس کی طاقت کو بہت بڑھاتی رہتی ہے۔کھاد کے بعد پانی کی ضرورت ہوتی ہے سو اس کے متعلق فرمایا۔کہ ہم نے اس میں پہاڑ بنائے ہیں۔جو برفوںکو سمیٹ کر رکھتے ہیں اورپانیوں کاذخیرہ ان کے ذریعہ موجود رہتا ہے اوردریائوں کی مدد سے سب دنیا میں پھیل کر اسے سیراب کرتاہے۔اَنْبَتَ کے دو معنی ا س کے بعد فرماتا ہے۔ہم نے ہر مناسب شے مناسب مقدار میں اُگائی یابڑھائی ہے اَنْبَتَ نَبَاتًا (یعنے اُگانا)زمین سے کسی چیز کو بطریقہ نشوونمانکالنے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔لیکن محاورہ میں اس کے معنی بڑھانے کے بھی آتے ہیں۔مثلا ً قرآن کریم میں حضرت مریم ؑ کے متعلق آتا ہے۔وَّاَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا(آل عمران :۳۸) اس جگہ یہ لفظ بڑھانے اورترقی دینے کے معنوں میں استعمال ہواہے۔اس آیت میں انبت کےدونوں معنی چسپاں ہوتے ہیں آیت زیر بحث میں یہ لفظ دونوں معنوں میں استعمال ہواہے۔اوراَنْۢبَتْنَا فِيْهَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُوْنٍ کے معنے ہیں ہم نے زمین میں ہرمناسب چیز پیداکررکھی ہے۔یااسے ترقی دے رہے ہیں۔یاہرچیز جس کا ایک اندازہ لگایاگیاہے اُسے اُگایا۔یااسے ترقی دی ہے۔