تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 21

نہیں۔تو جھٹ کہہ دیتے ہیں کہ اچھا پھر وہ آگ لاؤ جس میں ہم نے جلنا ہے ہم جو نیکی کی بات بتاتے ہیں اس کو تو قبول نہیں کرتے اور جو عذاب کا ڈراوا دیتے ہیں اس کو جلدی مانگنے لگ جاتے ہیں۔حالانکہ نبیوں کے ساتھ عذاب بھی آتا ہے اور اب بھی آئے گا۔مگر انہیں یہ نہ چاہیے تھا کہ بجائے اصلاح کرکے فضل الٰہی طلب کرنے کے ضد کرکے عذاب طلب کرتے۔انبیاء کے دشمن ہمیشہ فضل کے بجائے عذاب ہی کے طالب ہوتے ہیں ہر نبی کے وقت میں ایسا ہی ہوتا ہے ان کے نادان دشمن فضل نہیں مانگتے یہ نہیں کہتے کہ سچا ہے تو ہمیں اس کی اطاعت نصیب ہو بلکہ یہ کہتے ہیں کہ سچا ہے تو ہم پر عذاب نازل ہو۔انبیاء کے بھیجنے سے لوگوں کو تباہ کرنا مقصود نہیں ہوتا وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ۔اس آیت میں اس عظیم الشان حکمت کو بیان فرماتا ہے کہ ہماری غرض انبیاء کے بھیجنے سے لوگوں کو تباہ کرنا نہیں بلکہ انہیں بچانا ہے۔دنیا کے لوگ ظلم پر ظلم کرتے چلے جاتے ہیں۔پھر بھی ہم مغفرت سے کام لیتے جاتے ہیں۔پس تمہارے عذاب جلدی مانگنے سے ہم عذاب جلدی نہ لے آئیں گے کیونکہ یہ ہماری سنت کے خلاف ہے۔ہماری خواہش تو یہ ہے کہ تم کو بخشش ملے۔پس انہی ذرائع کو ہم کام میں لائیں گے جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نجات دینے کا موجب ہوں۔وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ۔مگر اس سے یہ نہ سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے تم بچ جاؤ گے۔تمہاری اصلاح کی پوری کوشش کی جائے گی لیکن تم نے اصلاح نہ کی تو پھر خدا تعالیٰ سزا بھی ضرور دے گا۔اور اس کی سزا کی شدت کا مقابلہ کوئی اور عذاب نہیں کرسکے گا۔اللہ تعالیٰ کا عذاب دوسروں کے عذاب سے سخت ہوتا ہے اس جملہ کے یہ معنی نہیں کہ خدا تعالیٰ عذاب دینے میں سختی سے کام لیتا ہے بلکہ یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب دوسروں کے عذاب سے سخت ہوتا ہے۔کیونکہ وہ جن راہوں سے عذاب محسوس کراسکتا ہے انسان نہیں کراسکتے۔عِقاب کے لفظ سے اس طرف بھی اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا عذاب بلا وجہ نہیں ہوتا عِقَاب کے لفظ سے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ خدا تعالیٰ کا عذاب بلاوجہ نہیں ہوتا۔بلکہ انسان کے اعمال کا لازمی نتیجہ ہوتا ہے کیونکہ عقاب اس چیز کو کہتے ہیں جو ایڑیوں سے لگی ہوئی ہو یعنی اپنے کئے کا نتیجہ ہو جیسے بچہ ماں کے ساتھ لگا ہوتا ہے۔