تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 20

اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ الآیۃ۔اس آیت میں فرمایا ہے کہ یہ مایوسی خدا تعالیٰ کے فضلوں سے کفر اور انکار کی وجہ سے ہوئی ہے۔اللہ تعالیٰ کے طریق کو چھوڑ کر خود ساختہ قواعد کی اتباع ناکام کرتی ہے جو لوگ خودساختہ قواعد کی اتباع کرتے اور اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کو چھوڑتے ہیں ان کے لئے مایوسی کا شکار ہوجانا کوئی عجیب بات نہیں۔اور مایوسی کا لازمی نتیجہ ناکام ہونا اور حسرتوں کے جہنم میں جلنا ہے۔افسوس کہ اس وقت یہی حالت مسلمانوں کی ہے۔وہ خدا تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق کو چھوڑ کر خودساختہ علاجوں کی طرف متوجہ ہیں۔بجائے اشاعت اسلام اصلاح اخلاق دعا اور انابت اور تسلیم لامراللہ کے سود اور بنک اور انگریزی تعلیم اور بیمہ اور کیا کیا علاج تجویز کررہے ہیں؟ حالانکہ ان میں سے بعض خلاف اسلام اور مضر ہیں اور بعض بغیر روحانی طاقتوں کے غیرمفید ہیں۔وَ يَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ وَ قَدْ خَلَتْ اور وہ نیک جزا پر سزا کو مقدم کرتے ہوئے تجھ سے (اس کے) جلدی (آنے) کا مطالبہ کر رہے ہیں حالانکہ ان سے مِنْ قَبْلِهِمُ الْمَثُلٰتُ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ مَغْفِرَةٍ لِّلنَّاسِ پہلے(ایسے لوگوں پر) تمام( قسم کے) عبرتناک عذاب آچکے ہیں اور تیرا رب لوگوں کو ان کے ظلم کے باوجود( بھی) عَلٰى ظُلْمِهِمْ١ۚ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَشَدِيْدُ الْعِقَابِ۰۰۷ بلا شک و شبہ (بہت ہی) بخشنے والا ہے اور( اسی طرح) تیرا رب یقیناً سخت سزا دینے والا (بھی) ہے۔حلّ لُغَات۔اَلْمَثُلٰتُ۔اس کا مفرد اَلْمَثُلَۃُ ہے جس کے معنے ہیں۔اَلْعُقُوْبَۃُ۔سزا۔یُقَالُ حَلَّتْ بِہِ الْمَثُلَۃُ اور حَلَّتْ بِہِ الْمَثُلَۃُ کا محاورہ مذکورہ بالا معنوں میں ہی استعمال ہوتا ہے کہ اس پر سزاوارد ہوئی۔وَمَا اَصَابَ الْقُرُوْنَ الْمَاضِیَۃَ مِنَ العَذَابِ وَھِیَ عِبَرٌ۔یُعْتَبَرُبِھَا۔اور گزرے ہوئے لوگوں پر جو عذاب نازل ہوئے اور جو دوسری اقوام کے لئے موجب عبرت ہیں ان کو بھی مَثُلَۃٌ کہتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔جب ان کو کہا جاتا ہے کہ اگر تم نے اپنے اَغلال کو دور نہ کیا اور خدا تعالیٰ کے سامانوں سے فائدہ نہ اٹھایا اور اپنی طاقتوں سے کام نہ لیا تو تم خشک لکڑی کی طرح ہو جاؤ گے۔جس کا کام سوائے جلنے کے اور کچھ