تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 19

الْاَغْلٰلُ فِيْۤ اَعْنَاقِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کا انکار کر دیاہے اور یہ وہ لوگ ہیں جن کی گردنوں میں طوق (پڑے) ہوں گے اور فِيْهَا خٰلِدُوْنَ۰۰۶ (یہ لوگ دوزخ کی) آگ (میں پڑنے) والے ہیں وہ اس میں رہا کریں گے۔حل لغات۔اَلْغُلُّ۔طَوْقٌ مِنْ حَدِیْدٍ اَوْقِدٍّ یُجْعَل فِی الْعُنُقِ اَوْ فِی الْیَدِ۔غُلّ اس طوق کو کہتے ہیں جو لوہے یا چمڑے کا ہوتا ہے۔اور ہاتھ میں یا گردن میں ڈالا جاتا ہے وَمِنْہُ قِیْلَ لِلْمَرْأۃِ السّیِّئَۃِ الْخُلُقِ غُلٌّ قَـمِلٌ۔انہی معنوں میں بدخلق عورت کو غُلٌّ قَـمِلٌ کہتے ہیں۔وَاَصْلُہٗ اَنَّ الْغُلَّ کَانَ یَکُونُ مِنْ قِدٍّ وَعَلَیْہِ شَعْرٌ فَیَقْمَلُ فِیْ عُنُقِ الْاَسِیْرِ فَیُؤْذِیْہِ فَیَکُوْنُ الْغُلُّ القَمِلُ اَنْـکَی مِنْ غَیْرِہِ۔اور اصل اس کی یوں ہے کہ غُلّ ایسے چمڑے سے ہوتا تھا جس میں بال ہوتے تھے اور قیدی کی گردن میں ڈالنے کے بعد اس میں جوئیں پڑ جاتی تھیں اور وہ طوق اسے تکلیف دیتا اس طرح وہ جوؤں والا غل زیادہ تکلیف دِہ ہو جاتا تھا۔وَجـمْعُہٗ اَغْلَالٌ وَغُلُوْلٌ۔اس کی جمع اَغْلَالُ بھی آتی ہے اور غُلُوْلٌ بھی۔اور جب یہ محاورہ بولتے ہیں کہ ھَذَا غُلٌّ فِیْ عُنُقِکَ تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ یہ عمل تیرے گلے کا ہار بن گیا ہے اور تجھ کو اس کے بدلے میں عذاب ملے گا۔(اقرب) تفسیر۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیابی میں اور ان کے ذریعہ سے دنیا کی اصلاح ہونے میں کوئی تعجب کی بات نہیں۔آنحضرت ؐ کے مخالفین کا آپ کی ترقی پر تعجب تعجب تو اس بات پر ہونا چاہیے کہ دنیا اس قدر خراب ہو جائے اور اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح کی فکر نہ کرے۔یہ امر خلاف سنت ہے کہ آنکھ تو ہو مگر اس سے کام لینے کے لئے روشنی نہ ہو۔مادہ تو ہو مگر اس کی طاقتوں کو ظاہر کرنے کے لئے نر نہ ہو پھر تعجب اس امر پر تو ہوسکتا ہے کہ نر و مادہ ملیں مگر نتیجہ پیدا نہ ہو۔اس پر کیا تعجب ہے کہ ان دونوں کے ملنے سے بچہ کس طرح ہو گیا؟ پس اس پر تعجب نہ کرو کہ اس کے ذریعہ سے دنیا کی اصلاح کس طرح ہوگی؟ تعجب تو تم کو اپنے اس احمقانہ خیال پر کرنا چاہیے کہ ہم گرنے کے بعد اٹھیں گے کس طرح؟ مرنے کے بعد زندہ کس طرح ہوں گے۔جب آسمانی سہارا آجائے جب زندگی کا پانی مل جائے پھر ان باتوں میں کیا تعجب ہے؟