تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 223 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 223

ذریعہ ہے جواور کسی کتا ب کو میسر نہیں اورنہ کبھی ہوگا۔قرآن مجید کا نام ذکر رکھے جانے کی وجہ جیساکہ بتایاجاچکاہے۔ذِکرکے معنے شرف اورنصیحت کے بھی ہیں قرآن کریم کانام ذکر اس لئے رکھا گیاکہ اس کے ذریعہ سے اس کے ماننے والوں کو شرف اورتقوی حاصل ہوگا۔پس اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ اِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یہ کلام جس کایہ دعویٰ ہے کہ میرے ذریعہ سے ماننے والوںکو شرف اورعزت اورتقویٰ ملے گا۔ہماراہی اُتاراہواہے اورہم ہی اس کے محافظ ہیں یعنی ان صفات کو عملاً پوراکرناہماراہی کام ہے۔اگریہ صفات اس کی ظاہر نہ ہوں توگویا اس کی تعلیم ضائع گئی مگرہم ایسانہیں ہونے دیں گے۔اس آیت میں کفار کی تباہی اورمسلمانوں کے غلبہ کی بھی پیشگوئی ہے کیونکہ قرآن کریم ہرقسم کی سیاسی،اقتصادی اورنظامی تعلیمات کامجموعہ ہے اورشرعی کلام جب تک اپنے ابتدائی ایام میںایک حکومت کے ساتھ متعلق نہ ہو اس کی تعلیم کے عملی حصہ کی خوبیاں پوری طرح ظاہر نہیں ہوسکتیں۔پس الذکر کی حفاظت کے لئے ایک حاکم قوم کی ضرورت تھی او ر ایسی قوم کے قیام سے پہلے عرب کی موجودالوقت حکومت کی تباہی لازمی تھی۔لوگ اسلامی حکومت کے قیام کو ایک اتفاق کہہ دیا کرتے ہیں۔اول تومحض اسلامی حکومت کاقیام بھی ان حالات کو دیکھتے ہوئے جن میں وہ قائم ہوئی کسی صورت میں اتفاق نہیں کہلاسکتالیکن اس پیشگوئی کو دیکھتے ہوئے توکوئی انسان جس میں ذرابھر بھی عقل ہو اسے اتفاق نہیں کہہ سکتا۔قرآن یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ عربوں کی حکومت ٹوٹ کر ان کی جگہ مسلمانوں کی حکومت ہوجائے گی۔قرآن یہ کہتاہےکہ یہ حکومت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آئے گی (۱)جوخداترس ہوں گے۔(۲)جودنیا کی نگاہ میں اعلیٰ شرف والے قرار پائیں گے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہزاروں حکومتیں ٹوٹتی ہیں اوردوسری ان کی جگہ لیتی ہیں مگر کیا ہر حکومت کے ٹوٹنے کے بعد جودوسری حکومت جگہ لیتی ہے وہ انہی صفات کی حامل ہوتی ہے جن کااوپر ذکر ہواہے؟مگر اس پیشگوئی کے نتیجہ میں عرب کی حکومت ٹوٹ کر کیسی حکومت قائم ہوئی ؟ شدید سے شدید دشمن بھی جو اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو گالیاں دیتاہے جب ابوبکرؓ اورعمرؓ تک پہنچتاہے توعزت سے گردن جھکالیتا ہے اوران کے تقویٰ اورعقل اورفہم اورنیک انتظام اور ایثار اور قربانی کا اعتراف کرتاہے۔اس قسم کی حکومت کاقائم ہوجانابھی کیااتفاق کہلاسکتاہے خصوصاً جبکہ وہ پیشگوئی کے ماتحت تھی اورقرآن کریم میں صاف کہہ دیاگیاتھاکہ لَقَدْ اَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ کِتَابًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْ اَفَلَاتَعْقِلُوْنَ (الانبیاء :۱۱) ہم نے یقیناً تمہاری طرف ایک ایسی کتاب اتاری ہے