تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 218

غلطیاں (طرز تحریر)ہوں تو ہوں۔لیکن جو قرآن عثمانؓ نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھااس کامضمون وہی ہے جو محمد(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) نے پیش کیاتھا۔گو ا س کی ترتیب عجیب ہے۔یوروپین علماء کی یہ کوششیں کہ وہ ثابت کریں کہ قرآن میں بعد کے زمانہ میں بھی کوئی تبدیلی ہوئی ہے بالکل ناکام ثابت ہوئی ہیں۔(انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا زیر لفظ قرآنKoran ) یہ و ہ شہادتیں ہیں جو اسلام کے شدید ترین دشمنوں کی ہیں۔اوراَلْفَضلُ مَا شَھِدَتْ بِہٖ الْاَعْدَاءَ۔قرآن مجید کے منجانب اللہ ہونے پر کتنی بڑی شہادت ہے کہ قرآن کریم امّیوں میں آتاہے اورہرطرح سے محفوظ رہتاہے مگرتورات اور انجیل اپنے زمانہ کی علمی قوموں میں آئیں لیکن محفوظ نہ رہ سکیں۔میور اس کے متعلق کیا ہی پُرحسرت الفاظ لکھتاہے۔" TO COMPARE THERE PURE TEXTS WITH THE VARIOUS READINGS OF OUR SCRIPTURES IS TO COMPARE THINGS BETWEEN WHICH THERE IS NO ANALOGY۔" قرآن مجید کے غیر محرف ہونے کے متعلق میور کا اعتراف ترجمہ :مسلمانوںکی بالکل پاک اور غیرتبدیل شدہ کتاب اورہماری کتب کے مختلف نسخوں کے باہمی اختلاف کامقابلہ کرنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کہ دو ایسی چیزوں کامقابلہ کیاجائے جن میں باہمی کوئی بھی مشابہت نہیں۔(لائف آف محمد صفحہ ۵۵۸) قرآن شریف کا محفوظ ہونا اتفاقی بات نہیں اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایک اتفاق ہے کہ قرآن شریف آج تک محفوظ ہے ؟اسلامی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ اتفاق نہیں بلکہ اس کی ظاہر حفاظت الکتاب اور قراٰن مبین کے دوذریعوں سے ہوتی ہے جن کا ذکر اس سورۃ کے شروع ہی میں کیا گیاہے۔شروع نزول ہی سے ا س کی آیات لکھی جانے لگیں اوراس کی حفاظت ہوتی گئی اورپھر اللہ تعالیٰ نے اسے ایسے عشاق عطاکئے جو اس کے ایک ایک لفظ کو حفظ کرتے اوررات دن خود پڑھتے اوردوسروں کو سناتے تھے۔اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے کسی نہ کسی حصے کا نمازوں میں پڑھنا فرض مقررکردیا اورشرط لگادی کہ کتاب میں سے دیکھ کر نہیں بلکہ یاد سے پڑھاجائے۔اگر کوئی کہے کہ یہ محمدؐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ایک بات سوجھ گئی تھی تو ہم کہتے ہیں کہ یہی بات زرتشت ،موسیٰ اوروید والوں کو کیوں نہ سوجھی۔معلوم ہوتاہے کہ اس کا سوجھانے والا کوئی اورہے۔کولمبس جب امریکہ کو دریافت کر کے واپس آگیا تولوگوں نے کہا کہ یہ کونسی بڑی بات ہے ہم جاتے توہم بھی امریکہ کو دریافت کرلیتے۔مگرکولمبس نے