تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 18
متصل ساتھ ہی کی زمین میں زعفران نہیں ہوتا۔اسی طرح صوبہ سرحد میں ایک ٹکڑا زمین کا ہے جسے غالباً باڑہ کہتے ہیں اس میں خاص قسم کے اعلیٰ چاول ہوتے ہیں۔پاس کے کھیتوں میں وہ چاول نہیں ہوتے۔زمینوں کو چھوڑ کر جانوروں کو لے لو۔مشک کا ہرن ایک خاص علاقہ میں اچھا مشک دیتا ہے۔وہاں کے پاس ہی دوسرے علاقہ میں لے جاؤ تو پہلے تو مشک ناقص ہونے لگے گا پھر بالکل مشک ہی پیدا نہ ہوگا۔تو فرمایا جب مٹی میں ہی ایسے فرق ہو جاتے ہیں تو انسانوں میں کیوں نہیں ایسا فرق ہوسکتا کہ ایک آسمانی بن جائے اور ایک زمینی۔یُسْقٰی کے لفظ سے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ یہ چیزیں باوجودیکہ ان کو ایک ہی پانی ملتا ہے۔مختلف رنگ و مزے کی ہوتی ہیں۔لیکن تم کو تو پانی بھی علیحدہ علیحدہ قسم کا پلایا جاتا ہے۔اس کو آسمانی پانی ملتا ہے اور تم کو تو شیطانی کیونکہ تم تو اس کلام کو سننے سے انکاری ہو اور شیطانوں کی باتیں سنتے رہتے ہو۔سامان سے ہر شخص حسب استعداد فائدہ حاصل کرتا ہے يُسْقٰى بِمَآءٍ وَّاحِدٍ سے اس بات کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ تم جو کہتے ہو کہ ہمارے جیسا آدمی اور ہمارے جیسے ہی سامانوں والا ہم سے آگے کیسے نکل جائے گا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ کیا ایک ہی پانی پی کر مختلف بیج مختلف مزے نہیں پیدا کردیتے۔پس یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ سامان ایک قسم کے ہیں بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ سامان کو استعمال کرنے کی قابلیت مختلف ہے۔ایک تلوار ایک اناڑی کے ہاتھ میں بیکار ہوتی ہے وہی تلوار شمشیر زن کے ہاتھ میں فتح و شکست کی ضامن ہوجاتی ہے۔ابوبکرؓ اور عمرؓ انہی مکہ والوں میں سے تھے جب تک ان کے ساتھ رہے معمولی آدمی رہے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں آئے دنیا کے بہترین دماغ بن گئے اور دوست و دشمن نے انہیں خراج تحسین دیا اور دے رہے ہیں۔وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ اور (اے مخاطب )اگرتجھے (ان منکران حق پر) تعجب آئے تو (وہ بجا ہے کیونکہ) ان کا( یہ) کہنا (کہ) جب ہم خَلْقٍ جَدِيْدٍ١ؕ۬ اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓىِٕكَ ( مر کر) مٹی ہوجائیں گے تو کیا ہمیں واقع میں (پھر) کسی نئے جنم میں آنا ہوگا( واقعی) عجیب (قول) ہے۔یہ وہ