تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 17 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 17

ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ۰۰۵ جنہیں ایک ہی (طرح کے) پانی سے سیراب کیا جاتاہے۔اور( باوجود اس کے) پھل کے لحاظ سے ہم ان میں سے بعض( درختوں) کو بعض پر فضیلت دیتے ہیں اس میں (بھی) ان لوگوں کے لئے جو عقل سے کام لیتے ہیں کئی نشان (موجود)ہیں۔حلّ لُغَات۔قِطَعٌ کا مفرد اَلْقِطْعَۃُ ہے جس کے معنی ہیں اَلْحِصَّۃُ مِنَ الشَّیْءِ۔یعنی ساری چیز کا ایک جزو قطعہ کہلاتا ہے۔(اقرب) مُتَجَاوِرَاتٌ۔تَجَاوَرَ سے ہے اور تَجَاوَرَالْقَوْمُ کے معنے ہیں جَاوَرَ بَعْضُھُمْ بَعْضًا۔کہ ایک قوم دوسری قوم کی ہمسایہ بن گئی۔(اقرب) وَفِی الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ کے معنی ہیں کہ زمین میں ایسے ٹکڑے ہیں جو ایک دوسرے کے آس پاس ہیں۔صِنْوَانٌ کا مفرد صِنْوٌ ہے اور اَلصِّنْوُ کے معنے ہیں اَلْاَخُ الشَّقِیْقُ۔حقیقی بھائی۔اَلْاِبنُ بیٹا۔اَلْعَمُّ چچا۔وَاِذَاخَرَجَ نَخْلَتَانِ اَوْاَکْثَرُمِنْ اَصْلٍ وَاحِدٍ فَکُلُّ وَاحِدَۃٍ مِنْھُنَّ صِنْوٌ وَصُنْوٌ۔اور جب کسی کھجور سے دو یا دو سے زیادہ تنے نکل پڑیں تو ہر ایک کو صنو کہتے ہیں۔وَ الْاِثْنَانِ صِنْوَانِ وَصِنْیَانِ مُثَلَّثَیْنِ وَالْجَمْعُ صِنْوَانٌ اور دو کو صِنْوَانِ یا صِنْیَانِ کہتے ہیں اور اس کی جمع صِنْوَانٌ ہے۔وَقِیْلَ الصِّنْوُ عَامٌّ فِیْ کُلِّ فَرْعَیْنِ یَخْرُ جَانِ مِنْ اَصْلٍ وَاحِدٍ فِی النَّخْلِ وَغَیْرِہِ۔اور بعض کے نزدیک صنو عام ہے۔صرف کھجور سے تعلق نہیں رکھتا۔پس صِنْوَانٌ وَغَیْرُ صِنْوَانٍ کے معنے یہ ہوئے کہ ایسے کھجور کے درخت جو دو یا دو سے زائد تنوں والے ہیں۔(اقرب) اَلْاُکُلُ۔اَلثَّمَرُ۔اُکُلْ کے معنی ہیں۔پھل۔اَلرِّزْقُ الْوَاسِعُ۔وسیع رزق۔(اقرب) وَنُفَضِّلُ بَعْضُہَا عَلٰی بَعْضٍ فِی الْاُکُلِ کے معنے ہوئے کہ ایک کا میوہ اعلیٰ اور زیادہ ہوتا ہے اور دوسرے کا اعلیٰ بھی نہیں ہوتا اور زیادہ بھی نہیں ہوتا۔تفسیر۔آنحضرت ؐ کے نبی بن جانے پر ایک لطیف دلیل یعنی یہ نہ سمجھو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ہی شخص ہے جس طرح یہ عبدالمطلب کا پوتہ ہے اور بھی کئی اس کے پوتے ہیں۔پس ان سب کو پیچھے چھوڑ کر یہ کیسے آگے نکل جائے گا؟ زمین کے مختلف حصوں کی مختلف طاقتیں یاد رکھو ایک ہی جگہ کی زمین کی مختلف ٹکڑوں میں مختلف طاقتیں ہوتی ہیں۔ایک زمین کے پاس ہی دوسری زمین ہوتی ہے لیکن ایک ٹکڑے میں ایک درخت پیدا ہوتا ہے اور دوسرے میں نہیں ہوتا۔یہ نظارہ کشمیر میں خوب نظر آتا ہے۔کہ ایک خاص زمین میں زعفران ہوتا ہے اور بالکل