تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 204 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 204

وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ۰۰۵ اورہم نے کبھی کسی بستی کوبغیراس کے کہ اس کے متعلق (پہلے سے )ایک معلوم فیصلہ ہوچکاہوہلاک نہیں کیا۔حلّ لُغَات۔اَلْقَرْیَۃ۔کے معنی بستی کے ہیں۔نیز قریہ بول کر اہل قریہ بھی مراد لیتے ہیں۔تفصیل کے لئے دیکھو حل لغات یوسف آیت نمبر ۸۳ نیز یونس آیت نمبر ۹۹۔القریۃ۔اَلْمِصْرُ اَلْجَامِعُ بڑا شہر۔کُلُّ مَکَانٍ اِتَّصَلَتْ بِہِ الْاَبْنِیَۃُ وَاتُّخِذَ قَرَارًا ہر آبادی کی جگہ خواہ شہر ہو یا گاؤں۔جَمْعُ النَّاسِ۔لوگوں کی جماعت۔(اقرب) اَلْقَرْیۃُ اِسْمٌ لِلْمَوْضَعِ الَّذِیْ یَجْتَمِعُ فِیْہِ النَّاسِ۔قَریة اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں لوگ جمع ہوتے ہیں۔وَلِلنَّاسِ جَمِیْعًا اور جمع شدہ لوگوں کو بھی قریة کہتے ہیں۔وَیُسْتَعْمَلُ فِی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا۔اور قریہ ان ہر دو معنے میں استعمال ہوتا ہے۔قَالَ تَعَالٰی وَاسْأْلِ الْقَرْیَۃَ قَالَ کَثِیْرٌ مِّنَ الْمُفَسّرِیْنَ مَعْنَاہُ اَھْلَ الْقَرْیَۃِ مذکورہ بالا آیت میں وَاسْأَلِ الْقَرْیَۃَ کے معنے اکثر مفسرین نے اَھْلُ قَرْیَۃٍ ’’یعنی بستی کے رہنے والے‘‘ کئے ہیں۔وَقَالَ بَعْضُھُمْ بَلِ الْقَرْیَۃُ ھٰھُنَا الْقَوْمُ اَنْفُسُھُمْ اور بعض مفسرین نے یوں کہا ہے کہ قریہ سے مراد خود لوگ ہی ہیں اہل قریہ نہیں۔(مفردات) وَلَھَا میں وائو حالیہ ہے وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ اِلَّا وَ لَهَا كِتَابٌ مَّعْلُوْمٌ۔وَ لَهَا میں واؤ حالیہ ہے۔قاضی منذر نے لکھاہے کہ اس کامطلب یہ ہوتاہے کہ اس کے بعد کامذکور اس کے قبل کے مذکور سے زمانہ میں پہلے واقعہ ہوچکاہے۔جیساکہ آتاہے حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْهَا فُتِحَتْ اَبْوَابُهَا (الزمر:۷۴)(البحر المحیط تفسیر سورة الحجر زیر آیت ھٰذا) تفسیر۔قریة سے مراد نبی کے تمام مخاطب ہوتے ہیں یادرکھناچاہیے کہ قریہ سے مراد گائوں یابستی نہیں بلکہ وہ قوم مراد ہے جن کی طرف نبی آتاہے۔یہ قرآن مجید کامحاورہ ہے کہ وہ قریہ کالفظ بول کر مراد نبی کے تمام مخاطب لیتا ہے اوراس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے مخاطب نبی کے گائوں یاشہر والے ہی ہوتے ہیں۔دوسروں کو ان کے تابع کردیاجاتاہے۔نبی کی بستی کو اُمّ القریٰ قراردیاجاتاہے جب ماں مرجائے توبچے آپ ہی بے غذامرجاتے ہیں۔اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ سے مراد اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ میں مراد وہی قریہ ہے جس میں نبی آتاہے دوسری بستیوںکا ذکر اس لئے چھوڑ دیا کہ وہ اس بستی کے تابع ہیںاس کامزیدثبوت اگلی آیت میں من امۃ کے لفظ