تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 16

دماغ کا جوڑا الہام آسمانی ہے اسی طرح انسانی دماغ کا حال ہے۔جب تک اس پر خدا تعالیٰ کا نور نازل نہ ہو۔اسے صحیح معرفت جو الہام اور عقل کا نتیجہ ہے حاصل نہیں ہوتی۔اور اسی طرح یہ بھی درست ہے کہ جب عقل صحیح اور الہام آسمانی مل جاویں تو انہیں بار دار ہونے سے بھی کوئی روک نہیں سکتا۔پس جس طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی کے بغیر معرفت الٰہی کا پیدا ہونا ناممکن تھا اسی طرح یہ بھی ناممکن ہے کہ آپؐ کا لایا ہوا کلام صحیح طریق پر پہنچنے کے بعد انسانی عقول اسے قبول کرنے سے باز رہ سکیں۔قرآن کریم کے پھیلنے کی مثال يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ سے ایک اور مثال تعلیم قرآن کے پھیل جانے کی دی۔موجودہ تاریکی سے یہ دھوکہ نہیں کھانا چاہیے کہ قرآنی تعلیم کس طرح پھیل سکے گی۔جس طرح روحانی دنیا میں تاریکی پھیلی ہوئی ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ رات کو دن کے بعد لاتا ہے اگر رات مستقل وجود ہو تو اس کا ہٹنا مشکل ہو لیکن تاریکی کا زمانہ بھی خدا تعالیٰ کے قانون کے ماتحت ہے اور اس کے حکم سے آتا ہے پس جو چیز تابع ہے اس کے متعلق کس طرح خیال کیا جاسکتا ہے کہ حکم کے باوجود ٹھہری رہے گی۔سورج کی ایک شعاع تاریکی کے بادلوں کو پھاڑ دیتی ہے۔اسی طرح اب ہوگا۔خدا تعالیٰ کے قبضہ میں نور ہی نہیں تاریکی بھی ہے۔پس جب وہ چاہے کہ تاریکی ہٹ جائے تو تاریکی قائم نہیں رہ سکتی۔جو لوگ فکر کرنے والے ہوں وہ ان مثالوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور اٹھائیں گے۔باقی وہ گروہ جو دوزخ کے بھرنے کے لئے اپنے آپ کو تیار کررہا ہے وہ بے شک رہ جائے گا۔وَ فِي الْاَرْضِ قِطَعٌ مُّتَجٰوِرٰتٌ وَّ جَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ اور زمین میں ایک دوسرے کے پاس پاس کئی( اقسام کے) قطعات ہیں۔اور کئی( طرح کے) انگوروں کے باغات زَرْعٌ وَّ نَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّ غَيْرُ صِنْوَانٍ يُّسْقٰى بِمَآءٍ اور( کئی قسم کی) کھیتی اور( طرح طرح کے) کھجور کے درخت (جن میں سے بعض) ایک ایک جڑ سے کئی کئی نکلنے وَّاحِدٍ١۫ وَ نُفَضِّلُ بَعْضَهَا عَلٰى بَعْضٍ فِي الْاُكُلِ١ؕ اِنَّ فِيْ والے( ہوتے ہیں)اور (بعض) ایک ایک جڑ سے کئی کئی نکلنے والوں کے خلاف( ایک ہی تنے کے ہوتے) ہیں