تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 15
روحانی زمین اور روحانی آسمان کی ضرورت اس میں بھی ایک روحانی آسمان اور ایک روحانی زمین کی ضرورت ہے۔یعنی ایک طرف قبول کرنے والی طبائع کی اور دوسری طرف آسمانی پانی اور آسمانی نور کی ضرورت ہوتی ہے۔اور جس طرح آسمانی پانی کے نزول کے بعد قابل زمین اپنے خزانے نکالنے سے رک نہیں سکتی اسی طرح وہ طبائع جو کہ اس روحانی سماء کے لئے بمنزلہ زمین ہوتی ہیں آسمانی پانی کے نزول کے بعد اپنے خزانوں کو روک نہیں سکتے اور جس طرح لوہا مقناطیس کے پیچھے چلا آتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نبی کے پیچھے چلے آتے ہیں۔پس محمدؐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے پھیلنے پر تعجب کی بات نہیں۔اگر نہ پھیلے تو تعجب ہے کہ اچھی زمین نے عمدہ بارش کے نازل ہونے کے بعد سبزہ کیوں نہیں اگایا؟ ظاہری پہاڑوں اور دریاؤں کی طرح روحانی دنیا میں پہاڑ اور دریا ہوتے ہیں پھر فرماتا ہے زمین میں ہم نے پہاڑ بنائے ہیں جن کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ان میں برف جم کر پانی کا ذخیرہ رکھتی ہے اور سال بھر چشموں اور دریاؤں کی صورت میں وہ پانی دنیا کو سیراب کرتا ہے اگر وہ برفوں کا ذخیرہ ختم ہو جائے تو چشمے اور دریا بھی بند ہوجائیں اور زمینیں بھی خشک ہو جائیں۔یہی حال روحانی دنیا کا ہے۔اس میں بھی بعض وجود پہاڑ کی طرح ہوتے ہیں کہ خدا کے کلام کے لئے ذخیرہ کے طور پر ہوتے ہیں اور بعض وہ وجود ہیں جو فائدہ تو پہنچاتے رہتے ہیں مگر جمع نہیں کرسکتے مگر ایک وہ ہیں جو صرف فائدہ ہی اٹھا سکتے ہیں۔انبیاء پہاڑ کی طرح ہوتے ہیں اور علماء نہروں کی طرح پہاڑ تو انبیاء ہیں اور نہریں علماء ہیں اور عام لوگ زمین کی طرح ہیں جو ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔پس رواسی کو اگراڑا دیا جائے تو پانی نہ رہے گا اور دنیا تباہ ہو جائے گی۔ہر چیز کا جوڑا ہوتا ہے وَ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِيْهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ يُغْشِي الَّيْلَ النَّهَارَ۔اور تمام پھلوں سے اس نے جوڑے یعنی نر و مادہ بنائے ہیں۔گو یہاں صرف پھلوں کا ذکر کیا ہے مگر دوسرے مقامات سے ثابت ہے کہ ہر چیز کا جوڑا ہے۔یہ ایک ایسی سچائی ہے جس کے اظہار میں قرآن کریم منفر دہے۔عربوں نے سب سے پہلے کھجور کے نر و مادہ کا علم حاصل کیا مگر اس سے زیادہ وہ دریافت نہ کرسکے۔قرآن کریم نے بتایا کہ سب پھل دار درختوں کے جوڑے ہیں بلکہ ہر شئے کے جوڑے ہیں۔جس وقت یہ سچائی نازل ہوئی دنیا اس کی حقیقت کے سمجھنے سے قاصر تھی۔سائنس کی تحقیق کہ ہر چیز کا جوڑا ہوتا ہے مگر اب سائنس تیرہ سو سال بعد اس نتیجہ پر پہنچی ہے کہ تمام اشیاء کے جوڑے ہیں حتیٰ کہ جمادات کے ذرات تک میں نر و مادہ کی دریافت ہورہی ہے۔اس مثال سے بھی یہ بتایا ہے کہ جس طرح باقی ہر چیز کو خدا تعالیٰ نے جوڑا بنایا ہے۔