تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 185
گی۔اس نے کہا میرا گھر بہت چھوٹا ہے۔فرمایا جو کعبہ میں داخل ہو اسے امان دی جائے گی۔اس نے کہا وہ بھی چھوٹا ہے۔آپ نے فرمایا جو اپنے گھر کا دروازہ بند کرلے گا اسے امان دی جائے گی۔ابوسفیان نے کہا بس! اب ٹھیک ہے اور دوڑ کر مکہ والوں کو آپ کے حملہ آور ہونے اور مذکورہ بالا امان دینے کا اعلان کیا(السیرة الحلبیة)۔مکہ والے جو اپنے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہیں زیادہ طاقتور سمجھتے تھے ان کے دلوں کی اس وقت کی حالت کا اندازہ کرنا آسان کام نہیں۔اپنی حکومت کو پائیدار اور غیر متزلزل سمجھنے والوں نے جب اپنے سردار کے منہ سے جو ایک نیا معاہدہ کرنے مدینہ گیا تھا یہ اعلان سنا ہوگا کہ مکہ والو! اپنے اپنے گھروں میں گھس کر دروازے بند کر لو کہ محمد (رسول اللہ) جسے تم نے دس سال پہلے تنہا مکہ سے نکالا تھا اس کا عظیم الشان لشکر چند فرسنگ پر سرعت سے مکہ کی طرف کو رخ کئے چلا آ رہا ہے۔اس لئے فوراً اپنے دروازوں کو بند کرکے بیٹھ جاؤ کہ اب اس سے تمہارے لئے کوئی امان کی صورت نہیں۔تو ان کا کیا حال ہوا ہوگا؟ یقیناً ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہوں گی۔ان کے سر بلند ہوہو کر اس راستہ کو دیکھ رہے ہوں گے جس پر سے اسلامی لشکر بڑھا چلا آ رہا تھا اور دنیا کا اور کوئی مسئلہ ان کی توجہ کو اپنی طرف نہ کھینچ سکتا ہوگا۔اور ان کے دل اندر ہی اندر بیٹھے جاتے ہوں گے۔جب وہ دروازے بند کرکے اپنے گھروں میں بیٹھ گئے ہوں گے اور جھروکوں اور کواڑوں کے سوراخوں سے اسلامی لشکر کو مکہ کی گلیوں میں کوچ کرتے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے ان کی اس وقت کیا حالت ہو گی؟ اس کا نقشہ ان قرآنی الفاظ سے زیادہ اور کون سے الفاظ کھینچ سکتے ہیں۔مکہ میں آنحضرت ؐ کا لشکر داخل ہونے کے وقت اہل مکہ کی حالت مکہ والوں کے لئے کیسی تلخی تھی؟ اس خیال میں کہ وہ محمد (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) جسے انہوں نے تاریکی میں جب کہ سب مکہ کے دروازے بند تھے مکہ سے نکلنے پر مجبور کیا تھا اب دن کے وقت مکہ میں داخل ہو رہا تھا۔اور اب بھی مکہ کے دروازے بند تھے۔وہ دروازے جو ہجرت کے دن اس لئے بند تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان میں پناہ نہیں مل سکتی تھی فتح مکہ کے دن اس لئے بند تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ذریعہ سے مکہ والوں کو پناہ دی تھی۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ۔کفار کو آنحضرت ؐ کے لشکر کی آمد کا پتہ نہ ملنا خدا ئی تصرف تھا یہ صرف خدائی تصرف تھا کہ آپ کے آنے کا مکہ والوں کو پتہ نہ لگا حالانکہ آپ اس راستہ سے آئے تھے جو آمدورفت کا ایک عام راستہ تھا جہاں سے مکہ والوں کو فوراً خبر پہنچ سکتی تھی لیکن ان کو خبر نہ ہوئی اور اس طرح یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔