تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 180
ہے۔اس کی زندگی بھی اللہ تعالیٰ کی عطا کی ہوئی ہے اور ہدایت بھی اسی کی طرف سے آتی ہے۔غالب نے کیا ہی عمدہ کہا ہے ؎ جان دی دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا اِغْفِرْلِیْ سے مراد پس نبی چونکہ عارف ہوتا ہے وہ اپنی ہستی کو دیکھتا ہے اور جانتا ہے کہ جو کچھ میں کررہا ہوں وہ میں نہیں بلکہ خدا ہی کر رہا ہے۔اس لئے وہ دعا کرتا ہے کہ اے اللہ! میرے وجود کو زیادہ سے زیادہ مخفی کر دے اور اپنے وجود کو زیادہ سے زیادہ ظاہر فرما۔گویا اِغْفِرْلِیْ کے اس صورت میں یہ معنے ہوتے ہیں کہ اے خدا! تجھے میری ہی محبت کا واسطہ ہے کہ اپنا پردہ مجھ پر ڈال دے۔یعنی میرا وجود مٹا کر تیرا وجود میرے ذریعہ سے ظاہر ہونے لگے اور یہ امر ظاہر ہے کہ بندہ کے ذریعہ سے جس قدر اللہ تعالیٰ کا وجود ظاہر ہوگا اسی قدر وہ اپنے نیک مقاصد میں کامیاب ہوگا۔غَفَر کے لفظ کے معنے حسب مراتب ہوتے ہیں ہاں جب دوسروں کے لئے یہ لفظ آئے تو اس وقت ان کے حسب مراتب اس لفظ کے معنے ہوں گے۔ایک اعلیٰ درجہ کا مومن یہ لفظ استعمال کرے گا تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ وہ کمزوریاں جو حصولِ کمال سے محروم کرتی ہیں ان سے مجھے بچا لے۔درمیانی درجہ کے مومن کے لئے یہ لفظ استعمال ہوگا تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ میری خطاؤں کو ڈھانپ کر مجھے اعلیٰ ترقیات کی توفیق دے اور عام مومن یہ لفظ استعمال کرے تو یہ مطلب ہوگا کہ میرے قدم کو ایمان پر استقلال سے قائم رکھ۔میرے گناہ مجھے کہیں لے نہ ڈوبیں اور ایک متلاشی حق یہ لفظ استعمال کرے تو اس کے یہ معنے ہوں گے کہ میرے گناہ مجھے ہدایت پانے سے محروم نہ کر دیں۔اس لئے میرے گناہ معاف کر۔اس لفظ کا استعمال مختلف مواقع کے لحاظ سے ایسا ہی ہے جیسے جبار کا لفظ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے لئے آتا ہے تو اس کے معنے مصلح کے ہوتے ہیں اور جب یہی لفظ بندے کے لئے آتا ہے تو اس کے معنے سرکش اور قانون شکن کے ہوتے ہیں۔یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی نسبت فرماتا ہے اللّٰهُ يَجْتَبِيْ مِنْ رُّسُلِهٖ(آل عمران :۱۸۰)۔تو جب اللہ تعالیٰ ان کو چن لیتا ہے تو پھر ان میں گناہ کہاں سے آسکتا ہے؟ جب وہ دنیا سے الگ کرکے خدا تعالیٰ کے قرب میں بٹھا دئیے گئے تو پھر ان کے پاس شیطان کہاں سے آئے گا؟ شیطان تو خدا تعالیٰ کے نام سے بھی بھاگتا ہے۔شیطان کا تسلّط اللہ کے بندوں پر نہیں ہوتا اسی طرح دوسری جگہ فرمایا ہے اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ(الحجر:۴۳)۔میرے بندوں پر یقیناً تجھے کوئی تسلط حاصل نہیں۔پس جب قانون یہ ہے کہ جو ادنیٰ عبودیت