تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 179
عام مُقِیْمُ الصَّلٰوۃِ سے بہت بڑھ کر ہے کیونکہ وہ شخص صرف اپنی نماز کو قائم کرتا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام دنیا کی نماز قائم کرنے کے لئے دعا کررہے ہیں۔حضرت نبی کریم ؐ کے متعلق دعا اور پیشگوئی دراصل یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق دعا اور پیشگوئی ہے کہ جس طرح میرے ذریعہ سے نمازیں قائم ہوئی ہیں اسی طرح آئندہ بھی میری اولاد سے ایک شخص نمازوں کا قائم کرنے والا پیدا ہو۔رَبَّنَا اغْفِرْ لِيْ وَ لِوَالِدَيَّ وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ يَوْمَ يَقُوْمُ (اے ) ہمارے رب جس دن حساب ہونے لگے اس دن مجھے اور میرے والدین کو الْحِسَابُؒ۰۰۴۲ اور تمام مومنوں کو بخش دیجئیو حلّ لُغَات۔غَفَرَ اِغْفِرْلِیْ غَفَرَ الشَّیْءَ غَفْرًا کے معنے ہیں سَتَرَہٗ۔اس کو ڈھانپ لیا۔الْمَتَاعَ فِی الْوِعَاءِ: اَدْخَلَہٗ وَسَتَرَہٗ۔سامان کو برتن میں داخل کیا اور اس کو ڈھانپ دیا۔الشَّیْبَ بِالْخِضَابِ۔غَطَّاہُ سفید بالوں کو خضاب سے ڈھانپا۔اللہُ لَہٗ ذَنْبَہٗ غَفْرًا غَطَّی عَلَیْہِ گناہوں پر پردہ ڈالا۔اَلْاَمْر بِغُفْرَتِہٖ۔اَصْلَحَہٗ بِمَا یَنْبَغِی اَنْ یُّصْلَحَ بِہٖ۔معاملہ کی اصلاح مناسب طریقہ سے کی۔(اقرب) پس غَفَرَ کے لفظ میں ڈھانپنے کے معنے پائے جاتے ہیں اور اِغْفِرْلِیْ کے معنے ہوں گے (۱) مجھے ڈھانپ لے۔مجھ پر پردہ ڈال دے۔یعنی میرا وجود مٹا کر اپنا وجود میرے ذریعہ سے ظاہر کر۔(۲) میری بشریت کو الوہیت کی چادر سے ڈھانپ لے۔یعنی میری کوششوں کے نتائج تیری شان کے مطابق نکلیں۔(۳) میرے تمام کاموں کی عمدہ طریقوں سے اصلاح فرمادے۔یعنی میرے تمام کام درست ہو جائیں۔اور میری اولاد کی کمزوریوں کو ڈھانپ کر ان کو ترقی کے منازل کی طرف لے جا۔تفسیر۔انبیاء کے استغفار کرنے کا مطلب نبی خدا کے فضل سے معصوم ہوتا ہے پھر نبی کا یہ کہنا کہ اِغْفِرْلِی اس کا کیا مطلب؟دراصل غیر عارف انسان کی نظر محدود ہوتی ہے۔اس کی نظر انسان تک ہی جاتی ہے اور انسان تک ہی تسلی پا جاتی ہے مگر عارف کی نظر اوپر جاتی ہے اور بلند ہوتی جاتی ہے۔وہ سمجھ لیتا ہے کہ بندے کی اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں کیا ہستی ہے۔سورج کے سامنے ایک ذرہ کی کیا حیثیت ہے؟ کیونکہ آخر انسان اسی کی مخلوق