تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 178

کے لوگوں کا ہی کام ہے۔اَللَّھُمَّ صَلِّ عَلَیْھِمْ وَارْفَعْ دَرَجَاتِھِمْ۔رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ١ۖۗ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ (اے) میرے رب مجھے اور میری اولا د میں سے (ہر ایک کو)نماز کو عمدگی سے ادا کرنے والا بنا (اے )ہمارے دُعَآءِ۰۰۴۱ رب(مجھ پر فضل کر) اور میری دعا (پوری طرح) قبول فرما حل لغات۔مُقِیْمُ الصَّلٰوۃِ مُقِیْمٌ اَقَامَ سے اسم فاعل ہے جو قَامَ کا مجرد ہے۔کہتے ہیں قَامَ الْاَمْرُ۔اِعْتَدَلَ۔معاملہ درست ہو گیا۔عَلَی الْاَمْرِ۔دَامَ وَثَبَتَ یعنی کسی چیز پر دوام اور ثبات اختیار کیا اور قَامَ السُّوْقُ کے معنے ہیں نَفَقَتْ۔بازار بارونق ہو گیا اور اَقَامَ الصَّلٰوۃَ کے معنے ہیں اَدَامَ فِعْلَھَا۔نماز پر دوام اختیار کیا۔اَقَامَ لِلصَّلٰوۃِ کے معنے ہیں نَادٰی لَھَا۔نماز کے لئے پکارا۔اَقَامَ اللہُ السُّوْقَ جَعَلَھَا نَافِقَۃً۔بازار کو بارونق بنا دیا۔(اقرب) پس رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ کے معنے ہوں گے کہ ہمیں ایسا بنا دے کہ نماز کا رواج دینے والے ہوں۔اور لوگوں کو اس طرف لانے والے ہوں اور نماز کی طرف لوگوں کو پکارنے والے ہوں۔تفسیر۔حضرت ابراہیم کا اِقَامةِ صَلوٰة کی دعا کرنے کا مطلب حضرت ابراہیمؑ نبوت کے مقام پر پہنچ چکے ہیں اور اولاد بھی ہوچکی ہے۔پھر وہ جوان ہے اور پھر اس کو دین کے لئے وقف بھی کر چکے ہیں۔پھر کیوں کہتے ہیں رَبِّ اجْعَلْنِيْ مُقِيْمَ الصَّلٰوةِ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِيْ۔کیا آپ کو اس بات میں کہ آپ نماز کی پابندی کرتے رہیں گے کوئی شبہ تھا۔اس سے آپ کی مراد یہ نہ تھی کہ میں نماز کو قائم نہ رکھ سکوں گا بلکہ ا س طرف اشارہ تھا کہ میرے ذریعہ اور میری اولاد کے ذریعہ سے دنیا میں نماز قائم رہے۔اِقَامةِ صَلٰوة شخصی بھی ہو سکتی ہے اور قومی بھی۔اس جگہ قومی اِقَامةِ صَلٰوة مراد ہے اِقَامَۃُ الصَّلٰوۃ شخصی بھی ہوسکتی ہے اور قومی بھی۔اس جگہ قومی مراد ہے اور حضرت ابراہیم کی دعا کا یہ مطلب ہے کہ میری کوششوں میں ایسا اثر دے کہ ہمیشہ میرے ذریعہ سے ایک نمازگذاروں کی جماعت قائم رہے اور اسی طرح میری اولاد میں سے بھی ہمیشہ ایسے لوگ ہوتے رہیں جو میرا ہاتھ بٹاتے رہیں اور لوگوں کو عبادت الٰہیہ کی طرف لاتے رہیں اور وہ بھی اپنی کوششوں میں کامیاب رہیں۔اس طرح تاقیامت میں نمازوں کا قائم رکھنے والا بن جاؤں۔یہ مقام