تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 14
وَ هُوَ الَّذِيْ مَدَّ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ فِيْهَا رَوَاسِيَ وَ اَنْهٰرًا١ؕ وَ اور وہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا ہے اور اس میں استحکام کے ساتھ ٹھہرے رہنے والے پہاڑ اور( نیز) دریا بنائے مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ جَعَلَ فِيْهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ يُغْشِي الَّيْلَ ہیںاور اس میں تمام (اقسام کے) پھلوں سے دونوں قسمیں (یعنی نر ومادہ) بنائی ہیں۔وہ رات کو دن پرلا ڈالتا النَّهَارَ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ۠۰۰۴ ہے۔جو لوگ سوچتے ہیں ان کے لئے (بلا شک و شبہ) اس (بات) میں کئی نشان (پائے جاتے) ہیں۔حل لغات۔مَدَّ۔مَدَّہٗ۔بَسَطَہٗ۔مَدَّہٗ کے معنے ہیں اسے پھیلایا۔اَلْمَدْیُوْنَ۔اَمْھَلَہٗ۔اگر یہ لفظ مَدْیُوْ نَ کے ساتھ استعمال ہو تو یہ معنے ہوتے ہیں کہ اس کو ڈھیل دی۔مَدَّ اللہُ عُـمُرَہٗ۔اَطَالَہٗ۔اس کی عمر لمبی کی۔مَدَّالشَّیْءَ۔جَذَبَہٗ۔کسی چیز کو کھینچا۔اَلْقَومَ۔صَارَلَھُمْ مَدَدًا۔قوم کی مدد کی۔وَاَغَاثَھُمْ بِنَفْسِہٖ۔اور خود اس کی اعانت کے لئے پہنچا۔وَفِی اللِّسَانِ مَدَدَتُّ الْاَرْضَ مَدًّا اِذَا زِدْتَ فِیْہَا تُرَابًا اَوْ سَمَادًا مِنْ غَیْرِھَا۔لِیَکُوْنَ اَعْمَرَ لَہَا وَاَکْثَرَ رَیْعًا۔لِزَرَعِھَا۔لسان العرب میں ہے کہ مَددَتُ الْاَرْضَ اس وقت بولا جائے گا جب اس میں باہر سے کچھ مٹی اور کھاد وغیرہ ڈالی جاوے۔تاکہ وہ زمین اچھا غلہ پیدا کرنے لگ جائے۔(اقرب) تو معنے یہ ہوئے کہ وہ خدا ہی ہے جس نے زمین کو پھیلایا اور وسیع کیا ہے اور وہ خدا ہی ہے جس نے زمین میں باہر سے لاکر اور مٹی ڈالی تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ قابل پیدائش بن سکے۔یہ بات جغرافیہ سے ثابت ہے کہ اس زمین پر دوسرے کروں کے باریک باریک ذرات پڑ رہے ہیں جن کی وجہ سے یہ زمین زیادہ پیدائش کے قابل ہورہی ہے اور زمین کی مدد کرنے کا یہ مطلب ہے کہ اس میں غیرمحدود سامان رکھے ہیں تاکہ اس میں رہنے والے تباہ نہ ہوں۔الرَّوَاسِی۔اَلْجِبَالُ الثَّوَابِتُ اَلرَّوَاسِخُ (اقرب) مضبوط پہاڑ۔ان معنوں کے لحاظ رواسی کا مفرد نہیں آتا۔تفسیر۔مَدَّ الْاَرْضَ میں آسمان اور زمین کے مل کر کام کرنے کی طرف اشارہ ہے مَدَّ الْاَرْضَ میں اس کی طرف اشارہ ہے کہ آسمان و زمین مل کر کام کرتے ہیں۔چنانچہ فرمایا رَفَعَ السَّمٰوٰتِ آسمان کو بلند کیا۔اور مَدَّ الْاَرْضَ زمین کو نیچے بچھا دیا ہے۔مطلب یہ کہ جس طرح یہ دونوں آپس میں زوج ہیں جن کے ملنے سے نتائج پیدا ہوتے ہیں۔کل کاروبار زمینی اور آسمانی طاقتوں کے ملنے سے چلتے ہیں اور اسی طرح روحانی عالم کا حال ہے۔