تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 13
یہ معنی اور بھی کمزور ہو جاتے ہیں اور پھر جب ہم دیکھتے ہیں کہ گو سورۂ رعد کی آیت زیربحث میں بھی یُدَبِّرُالْاَمْرَ کے الفاظ ہیں لیکن اِسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ کے معاً بعد نہیں بلکہ دوسرے جملوں کے بعد آئے ہیں۔پس اس جگہ یہ الفاظ اِسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ کے لئے جملہ مفسرہ نہیں بن سکتے۔عرش سے مراد کوئی مادی چیز نہیں غرض اِسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ کے نہ تو یہ معنے ہیں کہ عرش کوئی مادی شئے ہے اور نہ اس سے یہ مراد ہے کہ عرش کوئی چیز ہی نہیں صرف حکومت کے معنوں میں اس لفظ کو استعمال کر لیا گیا ہے۔بلکہ اس سے مراد صفات تنزیہہ کا مجموعی نظام ہے جس کے لئے صفات تشبیہہ بطور حامل کے ہیں۔یا یوں کہو کہ بطور پاؤں کے ہیں۔آسمان وزمین کو بغیر ستونوں کے کھڑا کرنے کے ذکر کے بعد پھر عرش پر قائم ہونے کا ذکر یہ بتانے کے لئے کیا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ایک نیا آسمان زمین تیار کرتا ہے تو اس کی صفات کامل طور پر ظاہر ہوتی ہیں اور کسی ایک صفت کا ظہور نہیں ہوتا۔بلکہ صفات تنزیہہ کے مرکز کے تابع جس قدر صفات تشبیہہ ہیں سب کی سب اپنے کام میں لگ جاتی ہیں گویا جس طرح بادشاہ خاص اعلان تخت پر بیٹھ کر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ بھی خاص فیوض صفات تنزیہیہ کے مرکز سے نازل کرتا ہے تا سب صفات تشبیہہ اس کے تابع ہونے کے سبب سے کامل طور پر ظاہر ہونے لگیں اس سے یہ اشارہ کیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید کسی ایک صفت کے ذریعہ سے نہ ہوگی۔بلکہ اللہ تعالیٰ کی تمام صفات جو بندے سے تعلق رکھتی ہیں آپ کی تائید میں لگ جائیں گی۔پھر فرمایا کہ آسمانوں کے بغیر ستون کھڑے ہونے کے علاوہ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح سورج چاند کو بغیر کسی اجرت کے تمہارے کام پر لگایا ہوا ہے تمہارے تنخواہ دار نوکر چون و چرا کرسکتے ہیں مگر یہ اجرام فلکی کامل اطاعت سے تمہاری خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔آخر وہ کون سا ظاہری خوف یا لالچ ہے جو ان کو درست رکھ رہا ہے۔خدا تعالیٰ کا ایک قانون ہی ہے نہ وہی قانون اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں جاری ہوکر ہر شئے کو اس کے تابع کردے تو اس میں کیا استعجاب ہے؟ پھر فرمایا کہ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ یعنی جس طرح یہ دنیوی قانون جاری ہے اور بغیر بظاہر نظر آنے والے ستونوں کے چل رہا ہے اسی طرح تمہارے دلوں میں یقین اور ایمان پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کام کو جاری کرے گا اور کھلے کھلے نشانات اس کی تائید میں ظاہر کرے گا یا یہ کہ تمام عالم کو اس کی تائید کے لئے واضح احکام دے گا اور عالم کا ذرہ ذرہ اس کی تائید میں لگ جائے گا۔