تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 165
قُلْ لِّعِبَادِيَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا يُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ يُنْفِقُوْا مِمَّا (اے رسول )میرے ان بندوں سے جو ایمان لا چکے ہیں (ان سے) کہہ کہ وہ اس دن کے آنے سے پہلے جس میں رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِيَةً مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ يَوْمٌ لَّا نہ کوئی بیع (و شراء) ہوگی اور نہ( ہی) کوئی گہری دوستی نماز کو عمدگی سے ادا کیا کریں۔اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے بَيْعٌ فِيْهِ وَ لَا خِلٰلٌ۰۰۳۲ اس میںسے پوشیدگی میں (بھی) اور ظاہر میں (بھی ہماری راہ میں) خرچ کیا کریں حلّ لُغَات۔خِلَالٌ خُلَّۃٌ کی جمع ہے اور خُلَّۃٌ خَالَّ سے ہے۔خَالَّہٗ مُخَالَّۃً وَخِلَالًا وَخَلَالًا کے معنے ہیں صَادَقَہٗ وَآخَاہُ۔اس سے دوستی کی اور اس کا بھائی بنا۔اَلْـخُلَّۃُ اَلْمَحَبَّۃُ وَالصَّدَاقَۃُ لَاخَلَلَ فِیْھَا۔ایسی محبت اور دوستی جس میں کوئی خلل نہ ہو۔(اقرب) تفسیر۔اگر مومن شجرہ طیبہ یا الہامی کلام کے فوائد کو جلد لانا چاہتے ہیں تو انہیں کہہ دو کہ وہ نمازوں کو ہمیشہ اور باشرائط ادا کیا کریں اور اپنے مالوں کو چھپ چھپ کر اور ظاہراً بھی خرچ کیا کریں۔ایک نماز جان بوجھ کر چھوڑنے والا نمازی نہیں کہلا سکتا اس حکم سے میرے نزدیک یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ جو شخص ایک نماز بھی جان بوجھ کر چھوڑتا ہے وہ نمازی نہیں کہلا سکتا۔اَللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ اللہ (تعالیٰ) وہ( ہستی) ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور بادلوں سے پانی اتارکر اس کے ذریعہ سے مَآءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ١ۚ وَ سَخَّرَ لَكُمُ تمہارےلئے پھلوں (کی قسم) سے رزق پیدا کیا ہے۔اور اس نے کشتیوں کو بلا اجرت تمہاری خدمت پر لگایا (ہوا)