تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 149
اور علو شان جیسی آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی اشیاء بھی ان کے نزدیک ادب کے مقابلہ پر ہیچ ہیں۔وہ اپنے شاعروں کو پیغمبراور اپنے ادیبوں کو دیوتا سمجھنے والے لوگ جن میں ادب اور ادیب کو ترقی کرنے کا بہترین موقعہ مل چکا تھا جب قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو زبانوں پر مہر لگ جاتی ہے۔اور آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔باوجود اس کے کہ نزول قرآن کریم کا زمانہ ان کا بہترین ادبی زمانہ تھا یا تو عرب کے چوٹی کے ادیب قریب میں ہی گزر چکے تھے یا ابھی زندہ موجود تھے۔وہ جب قرآن کریم کو سنتے ہیں تو بے اختیار اس کے سحر ہونے کا شور مچا دیتے ہیں۔مگر وہی لفظ جو اس کے جھوٹا ہونے کے ثبوت کے طور پر استعمال کیا گیا تھا اسی نے ظاہر کر دیا کہ عرب کا متفقہ فیصلہ تھا کہ قرآن کریم کا حسن انسانی قوتِ تخلیق سے بالا تھا۔انسانی دماغ نے بہتر سے بہتر ادبی مقالات بنائے تھے مگر اس جگہ اسے اپنے عجز کا اعتراف کئے بغیر کوئی چارہ نہ تھا۔فَسُبْحَانَ اللہِ اَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ۔قرآنی مضامین کی وسعت بلندی اور تاثیر حیرت انگیز ہے اس کے مضامین کا بھی یہی حال ہے۔ان کی بلندی ان کی وسعت، ان کی ہمہ گیری، ان کا نسانی دماغ کے گوشوں کو منور کر دینا، انسانی قلوب کی گہرائیوں میں داخل ہو جانا، نرمی پیدا کرنا تو اس قدر کہ فرعونیت کے ستونوں پر لرزہ طاری ہو جائے، جرأت پیدا کرنا تو اس حد تک کہ بنی اسرائیل کے قلوب بھی ابراہیمی ایمان محسوس کرنے لگیں۔عفو کو بیان کرے تو اس طرح کہ عیسیٰ علیہ السلام بھی انگشت بدنداں ہو جائیں۔سزا کی ضرورت کو ظاہر کرے تو اس طرح کہ موسیٰ ؑ کی روح بھی صلِ علیٰ کہہ اٹھے۔غرض بغیر اس کے مضامین کی تفاصیل میں پڑنے کے ہر انسان سمجھ سکتا ہے کہ وہ ایک سمندر ہے جس کا کنارہ نہیں۔ایک باغ ہے جس کے پھلوں کا خاتمہ نہیں۔آج تک اس کے حسن کو دیکھ کر لوگ یہ کہتے چلے جاتے ہیں کہ یہ کلام بہت سے لوگوں نے مل کر بنایا ہے مگر کیا یہ خود اقرارِ حسن نہیں۔قرآن مجید کی غیر معمولی لذت طَیّب کے تیسرے معنے لذت کے ہیں۔قرآن کریم کی لذت کو دیکھو تو غیر معمولی ہے۔ہر مذہب و ملت کے لوگوں کو دیکھو وہ اپنے مذہب پر عمل کرکے بیزار نظر آتے ہیں لیکن قرآن کریم پر عمل کرنے والا کبھی اس سے بیزار نہیں ہوتا بلکہ زیادہ سے زیادہ مزہ اس سے اٹھاتا ہے۔غرض اس میں کچھ ایسی لذت ہے کہ جو اس کا مزہ حقیقی طور پر چکھ لیتا ہے پھر اسے چھوڑنے کا نام نہیں لیتا۔قرآن مجید میں پاکیزگی پر سب کتابوں سے زیادہ زور دیا گیا ہے طَیّب کے چوتھے معنے پاکیزگی اور نمو کے ہیں۔قرآن کریم اس میں بھی بے مثل ہے۔جس قدر پاکیزگی کی تعلیم پر قرآن کریم میں زور ہے اور کسی کتاب میں نہیں۔ظاہری پاکیزگی کو دیکھو تو یہ قرآن کریم ہی ہے جو اسے مذہب کا جزو قرار دیتا ہے۔قرآن کریم سے