تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 148
اندر بے نظیر خوبیاں رکھتا ہے اور فوق العادت طاقتیں اس میں پائی جاتی ہیں۔اس حد تک کہ نہ کوئی انسانی کلام اور نہ سابقہ آسمانی کتب اس سے ان امور میں برابری کرسکتی ہیں۔ایک مختصر تفسیر میں ان امور کی تفصیلات بیان کرنے کا تو موقعہ نہیں مل سکتا لیکن اختصاراً میں ان امور کو قرآن کریم پر چسپاں کرکے بتاتا ہوں کہ یہ سب علامات قرآن کریم میں ایسے اعلیٰ اور اکمل طور پر پائی جاتی ہیں کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔طیبہ کے لفظ میں خوبیوں کی طرف اشارہ سب سے پہلے میں ’’ طیبۃ‘‘ کے لفظ میں جن خوبیوں کی طرف اشارہ ہے انہیں لیتا ہوں۔طیبۃ کا لفظ جس چیز کے لئے بولا جائے اس کے لئے شرط ہے کہ اس میں ظاہری یا باطنی کوئی نقص نہ ہو۔کوئی ضرر نہ ہو۔نازک ترین مضامین پر مشتمل ہونے کے باوجود قرآن مجید کی زبان نہایت اعلیٰ اور شستہ ہے اب ہم قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو اس کے اندر ہمیں یہ بات غیر معمولی طور پر نظر آتی ہے کہ باوجود اس کے کہ اس میں ایسے مضامین بیان کے گئے ہیں جو نہایت نازک ہیں لیکن پھر بھی اس کی زبان نہایت اعلیٰ اور تہذیب کے انتہائی نقطہ پر قائم رہتی ہے۔میاں بیوی کے تعلقات حیض و نفاس کا ذکر،عورت و مرد کی جذباتی زندگی، یہ سب ہی کچھ اس میں بیان ہے۔لیکن ایسے عمدہ طریق سے کہ نازک سے نازک طبیعت اس سے صدمہ محسوس نہیں کرتی۔اس کی زبان ایسی صاف ہے کہ نہ ثقیل لفظ ہیں نہ پیچیدہ بندشیں، نہ شاعرانہ تخیلات بلکہ ہر مضمون کو خواہ کس قدر مشکل ہو وہ اس عمدگی سے اور ایسے سادہ لفظوں میں ادا کرتا ہے کہ نہ کانوں پر اس کی عبارت گران گزرتی ہے اور نہ دماغ اس سے پریشان ہوتا ہے۔تعلیم ایسی سادہ اور لطیف ہے کہ اس پر عمل کرکے کسی نقصان کا خطرہ معلوم ہی نہیں ہوتا۔قرآن مجید کا ظاہری حسن بے مثل ہے دوسرے معنے طیبۃ کے یہ ہیں کہ اس کا موصوف خوبصورت ہو۔ان معنوں کی رو سے بھی قرآن کریم سب کتب سے ممتاز نظر آتا ہے۔اس کا ظاہری حسن ایسا نمایاں ہے کہ کوئی کتاب اس کے سامنے ٹھہر ہی نہیں سکتی۔الفاظ کی خوبی، بندش کی چستی، محاورہ کا برمحل استعمال، عبارت کا تسلسل، مضمون کی رفعت، معانی کی وسعت، ایک سے ایک بڑھ کر خوبیاں ہیں۔کہ انسان نہیں کہہ سکتا کہ اسے سراہے یا اس کی تعریف کرے۔انہی عربی الفاظ سے وہ بنا ہے جو ہزاروں لاکھوں اور کتب میں استعمال ہوئے ہیں مگر کیا مجال کہ کوئی اور کتاب اس کے قریب تک پہنچ سکتی ہو۔عرب اپنے خیالات کی نزاکت اور اپنے ادب کی بلندی اور اپنے ذخیرہ الفاظ کی کثرت کی وجہ سے سب دنیا کے لوگوں پر فوقیت رکھتے ہیں اور عرب قوم ادب کی اس قدر دل دادہ ہے کہ زور اور زر