تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 147

مشتمل نہ ہو بلکہ اعلیٰ مقاصد اور اعلیٰ اخلاق کی تعلیم پر مشتمل ہو۔سچے کلام سے ہر فطرت کے آدمی فائدہ اٹھاتے ہیں ۴- چوتھی بات فَرْعُهَا فِي السَّمَآءِ سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ ہر فطرت کے آدمی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔کیونکہ جس درخت کی شاخیں خوب پھیلی ہوئی ہوں اس کے سایہ کے نیچے بہت سے آدمی بیٹھ سکتے ہیں۔پس اس میں کلام الٰہی کی اس صفت کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ اس کے سلسلہ میں بہت سے لوگ آسکتے ہیں۔یعنی مختلف فطرتوں اور مزاجوں کے لوگوں کو وہ آرام دینے کا موجب ہوتا ہے۔چوتھی علامت یہ بتائی ہے کہ وہ ہر وقت اپنے پھل دے رہا ہو۔اس سے یہ مراد ہے کہ زندہ کلام الٰہی کی (۱) یہ علامت ہوتی ہے کہ وہ ہر زمانہ میں ایسے لوگ پیدا کرتا رہتا ہے جو اس کے پھل کہلا سکتے ہیں یعنی وہ اس کا اعلیٰ نمونہ ہوتے ہیں۔اور انہیں کلام کے اعلیٰ ہونے کی مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔سچے کلام سے دائمی نجات حاصل ہوتی ہے ۲- دائمی نجات اس سے حاصل ہو۔کیونکہ جس طرح تُؤْتِيْ اُكُلَهَا سے یہ مراد ہے کہ ہر وقت کامل انسان پیدا کرتار ہے اسی طرح یہ بھی کہ انسان ہمیشہ اس سے پھل کھاتا ہے اور ہمیشہ پھل تبھی کھا سکتا ہے جبکہ ہمیشہ کی پاکیزہ حیات انسان کو حاصل ہو۔پانچویں علامت شجرہ طیبہ کی یہ بتائی کہ وہ اپنے پھل بِاِذْنِ رَبِّهَا دیتا ہے۔یعنی اس کے اعلیٰ پھل طبعی نہیں ہوتے بلکہ اذن الٰہی سے ہوتے ہیں۔کلام الٰہی کے درخت کو اس طرح عام درخت سے ممیز کر دیا گیا ہے۔کیونکہ عام درخت قوانین طبعیہ کے ماتحت پھل دیتا ہے لیکن شجرہ طیبہ ایک ایسا درخت فرض کیا گیا ہے کہ جو پھل تو دے لیکن وہ پھل خاص حکم کے ماتحت ظاہر ہوں۔ان کا ظہور الٰہی منشاء کے ماتحت ہو۔اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کلام الٰہی کے نتائج صرف طبیعی نہیں ہوتے بلکہ شرعی بھی ہوتے ہیں۔مثلاً سچ بولنا ہے اس کا ایک طبعی پھل ہوگا کہ لوگوں میں سچے آدمی کا وقار بڑھے گا لیکن اس کا ایک پھل شرعی ہوگا کہ ایسا انسان خدا تعالیٰ کے خاص فضلوں کا وارث ہوگا۔نماز ہے۔اس کا ایک ظاہری پھل تو یہ ہوگا کہ اطاعت اور نظام قومی کی تعلیم ہوگی لیکن ایک اس کا شرعی پھل ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی رؤیت ایسے شخص کو حاصل ہوگی اور وہ اس کا قرب پائے گا۔قرآن مجید میں سچے کلام کی سب علامات پائی جاتی ہیں یہ علامات شجرہ طیبہ کی جو قرآن کریم نے بیان کی ہیں تازہ کلام الٰہی کی جو مصفیٰ اور زندہ ہو ایسی بین تشریح کر دیتی ہیں کہ سچے اور جھوٹے کلام میں فرق کرنے میں کوئی مشکل ہی باقی نہیں رہتی۔چنانچہ جب ہم ان علامات کی روشنی میں قرآن کریم کو دیکھتے ہیں تو ہر علامت اس میں ایسے حیرت انگیز طور پر پائی جاتی ہے کہ بلید سے بلید آدمی بھی اس امر کو تسلیم کرنے سے رک نہیں سکتا کہ یہ کلام اپنے