تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 146

اس پر عمل کرنے والی ایک جماعت ہو۔جن کے اندر وہ پرورش پاکر بڑھے اور ترقی کرے کیونکہ جس طرح درخت زمین میں اپنی جڑھیں پکڑتا ہے کلام الٰہی مومنوں کے دلوں اور اعمال میں جڑھیں پکڑتا ہے۔اگر اس پر عمل کرنیو الی کوئی جماعت نہ ہو تو اس کے آثار اور نتائج ظاہر نہیں ہوسکتے۔پس مومنوں کی جماعت کلامِ الٰہی کے لئے بمنزلہ زمین ہوتی ہے اور اَصْلُهَا ثَابِتٌ کے یہ معنے ہیں کہ وہ ایمان لانے والوں کے قلوب پر ایک گہرا اثر ڈالتا ہے اور ان کے اندر مضبوطی سے جڑھیں پکڑ لیتا ہے۔یعنی وہ اس پر عمل کرتے ہیں اور اس کے کمالات کو ظاہر کرنے کا موجب ہوتے ہیں۔۶- اس کا منبع ایک ہی ہوتا ہے۔یعنی حیوان کی طرح اپنی غذا مختلف جگہوں سے نہیں لیتا بلکہ درخت کی طرح ایک ہی جگہ سے یعنی اللہ تعالیٰ سے غذا لیتا ہے۔مطلب یہ کہ انسانی کلام اور تعلیمات مختلف جگہوں سے خوشہ چینی کرتے ہیں۔کچھ رسم و رواج سے لیا کچھ فلسفہ سے کچھ طبعیات سے کچھ رائج الوقت اصول سے اور اس وجہ سے ان تعلیمات میں باہمی اختلاف پایا جاتا ہے۔اس کے برخلاف الٰہی کلام ایک ہی منبع سے نکلا ہوا ہوتا ہے۔جڑھیں اس کی گہری ہوتی ہیں۔یعنی ہر معاملہ پر سیرکن بحث کرتا ہے لیکن سب تعلیمات ایک ہی اصل کے ماتحت ہوتی ہیں۔اور ان میں اختلاف نہیں ہوتا۔ا ور نیز یہ کہ تازہ الٰہی کلام انسانی امداد کا محتاج نہیں ہوتا۔سب غذا یعنی اس کی زندگی کا سامان جس سے مراد دلائل و براہین ہیں اپنی جڑھ سے ہی لیتا ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ سے جہاں سے وہ آیا ہے۔آسمان میں شاخیں ہونے سے مراد تیسری علامت یہ بتائی تھی کہ اس کی شاخیں آسمان میں ہوتی ہیں۔اس سے اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ ۱- اس پر عمل کرکے انسان خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے کیونکہ جس درخت کی شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہوں جو شخص اس پر چڑھے گا لازماً آسمان تک پہنچ جائے گا۔جو استعارۃً الہامی کتب میں اللہ تعالیٰ کے قرب کا مقام قرار دیا گیا ہے۔(۲) وہ تفصیلات شریعت کو مکمل طور پر بیان کرے۔کیونکہ آسمان میں شاخوں کے پھیلنے سے شاخوں کی بہتات اور کثرت بھی مراد ہوسکتی ہے۔پس کلام الٰہی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ معنے ہوں گے کہ اس کلام میں ہر انسانی ضرورت کے متعلق تعلیم موجود ہو اور اخلاقی اور مذہبی کوئی ایسا مسئلہ نہ ہو جس پر اس میں بحث نہ ہو۔گو اس نے روحانی آسمان کو اپنے پھیلاؤ سے ڈھانپ لیا ہو۔سچے کلام کی تعلیم اعلیٰ اخلاق پر مبنی ہوتی ہے ۳- تیسری بات اس سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ اس کی تعلیم اعلیٰ اخلاق پر مبنی ہو۔کیونکہ اونچی شاخوں سے مراد ایک یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کی تعلیم ادنیٰ اخلاق اور ادنیٰ امور پر