تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 127

ہوں گے کہ یہ اس کے لئے ہے جو میرے رتبہ اور میرے مقام اور میری شان سے ڈرے۔وَعِیْدٌ وَعِیْدٌ وَعَدَ کا مصدر ہے اور وَعَدَ عِدَۃً وَوَعْدًا اچھے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔اور وَعَدَ وَعِیْدًا برے معنوں میں اور وعدہ کے وقت وعدہ نہ پورا کرنا تو کذب کہلاتا ہے لیکن وعید میں تخّلف کرم کہلاتا ہے اور اچھا سمجھا جاتا ہے اور وعید کے معنے ہیں اَلتَّھْدِیْدُ۔دھمکی۔(اقرب) تفسیر۔اس آیت میں جمع کا صیغہ قبضہ اور تصرف کے ظاہر کرنے کے لئے ہے پہلی آیت میں بھی اور اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے متکلم مع الغیر کے صیغہ کو استعمال کیا ہے جو کہ جمع کے معنے دیتا ہے۔حالانکہ ہلاک کرنے والی اور جگہ دینے والی تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو واحد ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اس جگہ قبضہ اور تصرف کا اظہار کرنا مقصود ہے۔چونکہ جماعت میں قوت اور طاقت زیادہ ہوتی ہے جہاں قرآن کریم میں قبضہ اور تصرف بتانا مقصود ہوتا ہے اور اسے نمایاں کرکے دکھانا ہوتا ہے۔وہاں جمع کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے اور جہاں استغناء کا اظہار مقصود ہوتا ہے یا قبضہ اور تصرف پر زور دینا مقصود نہیں ہوتا۔وہاں واحد کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے۔جمع کے صیغہ کے استعمال کے متعلق صوفیوں کا خیال بعض صوفیوں نے یہ بھی لکھا ہے جس کام کو اللہ تعالیٰ ملائکہ کے توسط سے کرتا ہے اس کے لئے جمع کا صیغہ استعمال فرماتا ہے اور جس کام کو خالص امر سے کیا جاتا ہے وہاں مفرد کا صیغہ استعمال فرماتا ہے۔ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِيْ وَ خَافَ وَعِيْدِ سے اس طرف اشارہ کیا کہ یہ غلبہ اور کامیابی کا وعدہ اس کے لئے ہے جو میرے درجہ کو سمجھتا ہو اور میرے مالک ہونے پر یقین رکھتا ہو۔ان کی طرف سے وعید یہی تھا کہ اے مومنو !ہم تم کو اپنی زمین سے نکال دیں گے گویا وعید اپنی ملکیت سے نکالنے کا تھا۔ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ان کو تباہ کرکے اپنے رسول کو ان کی جگہ قائم کر دیں گے۔الٰہی وعدہ کے پورا ہونے کے لئے اللہ کی عظمت اور اس کا خوف دل میں ہونا ضروری ہے اور پھر فرمایا کہ یہ وعدہ ہمارا اس کو ہی ملے گا جو میرے مقام اور مرتبہ سے اور میرے انذار سے خوف رکھتا ہوگا گویا وعدہ کے پورا ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت نبی کی جماعت کے دل میں ہو اور اس کے عذاب سے وہ خائف ہوں۔پس وہ لوگ غلطی پر ہیں جو صرف امت میں سے کہلا کر الٰہی وعدوں کے امیدوار رہتے ہیں۔