تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 9

چھت بغیر دیوار یا ستون کے کھڑی نہیں ہوسکتی لیکن اللہ تعالیٰ کی ایک اور صنعت دیکھو کہ کتنے کتنے بوجھل ستارے بغیر کسی ایسی چیز کے جسے عرف عام میں ستون کہہ سکیں یا بغیر کسی نظر آنے والے ستون کے اپنی اپنی جگہوں پر قائم ہیں اور ایک لمبا عرصہ گزرنے پر بھی ان کے نظام میں کوئی فرق نہیں آتا۔پس انسانی فعل اور خدائی فعل میں فرق ہے۔انسان تو بے شک بغیر ستون کے چھت نہیں کھڑی کرسکتا لیکن اللہ تعالیٰ نے تو لاکھوں کروڑوں ستارے بغیر ستونوں کے کھڑے کر چھوڑے ہیں اور ایسے مخفی سہارے ان کے بنائے ہیں کہ جو انسان کو نظر بھی نہیں آتے۔اسی طرح روحانی معاملات کو سمجھ لو کہ بے شک انسان جب اپنی کوشش سے غالب ہونا چاہے تو اس کے لئے ظاہری سامانوں کی ضرورت ہے لیکن جب اللہ تعالیٰ کسی کو غالب کرنا چاہے تو اس کے لئے ظاہری سامانوں کی ضرورت نہیں اس کے سامان باریک اور غیر مرئی ہوتے ہیں اور اسی وقت حقیقت کھلتی ہے جبکہ نتیجہ نکل آتا ہے اس سے پہلے سب لوگ نبی کے غلبہ کو ناممکن قرار دیتے چلے جاتے ہیں۔کفار جن سامانوں کو کامیابی کے لئے ضروری سمجھتے تھے وہ سورۂ بنی اسرائیل رکوع۱۰ میں بیان ہوئے ہیں۔اور وہ یہ ہیں (۱) اس کے پاس آدمیوں اور جانوروں کے استعمال کے لئے چشمے ہوں۔(۲)باغات کا مالک ہو اور زمینوں کے آباد کرنے کے لئے نہریں کھودے۔(۳)اس کے دشمن فوراً برباد کئے جائیں اور پکڑے جائیں۔(۴)خدا تعالیٰ اور فرشتے اس کی مدد کے لئے لوگوں کے بالمقابل آکھڑے ہوں۔(۵)دولت بے انتہا اس کے پاس ہو۔(۶)وہ غیر معمولی طاقتوں کا مالک ہو۔آسمان پر لوگوں کے سامنے چڑھ جائے اور وہاں سے لکھی ہوئی کتاب لے کر آئے جسے لوگ اپنے ہاتھوں میں پکڑ سکیں اور پڑھ سکیں یعنی یہ نہ کہے کہ مجھے زبانی حکم ملاہے بلکہ لکھا ہوا پروانہ جسے لوگ خود پڑھ سکیں اس کے ساتھ ہو۔کفار کے نزدیک غلبہ کے دو قسم کے ذرائع دنیوی و دینی ان مطالبات سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار کے نزدیک غلبہ کے ذرائع دو قسم کے ہیں۔ایک دنیوی یعنی زمینوں مال و دولت پانیوں اور سزا و جزا کی طاقت کا حاصل ہونا۔دوسرے دینی یعنی غیر معمولی اور خارق سنت سامانوں کا پیدا ہونا۔جیسے کہ خدا تعالیٰ کا ظاہر ہونا، فرشتوں کا ظاہر ہونا، آسمان پر جاکر لکھی ہوئی کتاب کا لے آنا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ ان دونو قسم کی طاقتوں سے محروم پاتے تھے۔ان کے نزدیک بادشاہ کے پاس جو کچھ ہونا چاہیے وہ بھی آپؐ کے پاس نہ تھا۔اور ایک نبی کے پاس جو کچھ ہونا چاہیے وہ بھی آپؐ کے پاس نہ تھا۔پس وہ خیال کرتے تھے کہ یہ شخص ایک بے ستون اور بے سہارے کی چھت قائم کرنا چاہتا ہے۔پس کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔شاید کہا جائے کہ دنیا میں بہت سے ایسے لوگ بادشاہ ہوئے ہیں جو