تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 118

گھبراہٹ میں ڈالنے والا۔تفسیر۔سب قوموں میں نبی آتے رہے لَا يَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ سے نکلتا ہے کہ غیر قوموں میں بھی نبی آتے رہے۔عاد اور ثمود کے بعد تو ابراہیمی نسل شروع ہو گئی تھی اور ابراہیمی نسل کے انبیاء کا ذکر قرآن مجید اور تورات میں موجود ہے۔پس مِنْۢ بَعْدِهِمْ سے مراد ابراہیمی نسل کے سوا دوسری نسلیں ہیں جن کو سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔یعنی کتب سماویہ جو ایک حد تک محفوظ ہیں ان میں ان کا ذکر نہیں ہے۔اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ ابراہیمی زمانہ میں بھی غیرقوموں میں نبی آرہے تھے۔بعض تاریخوں سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم کا زمانہ اور ثمود کا زمانہ برابر چل رہے تھے۔اگر یہ درست ہے تو ظاہر ہے کہ اسی وقت سے ہی غیر قوموں میں نبی آرہے تھے۔رَدُّوْا اَيْدِيَهُمْکے معنوں میں مفسرین کا اختلاف رَدُّ وْا اَيْدِيَهُمْ کے متعلق مفسرین میں بہت کچھ اختلاف ہوا ہے۔اور زیادہ مشکل لفظ فی کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔اگر علی آتا تو معنے صاف تھے۔رَدَّفِیْہِ چونکہ نئی قسم کا محاورہ ہے اس لئے مختلف معانی کئے گئے ہیں۔بعض نے اس کے معنے یوں کئے ہیں (۱) کہ ’’منکرین انبیاء نے اپنے ہاتھ اپنے منہ کی طرف لوٹا دیئے۔‘‘یعنی وہ انبیاء کی باتیں سن کر حیرت سے انگشت بدندان ہو گئے۔اور انہوں نے اس کو عجیب بات سمجھا۔کسی کی بات سن کر اس طرح منہ پر ہاتھ رکھنا استہزاء اور تمسخر کا ایک طریق ہے۔ہمارے ملک میں عورتوں میں اس کا بہت رواج ہے۔غالباً منہ پیٹ لینے کا اشارہ اس میں پایا جاتا ہے۔فِیْبمعنے عَلٰی (۲) بعض نے فِیْ کے معنے عَلٰی کے کئے ہیں جو لغۃً درست ہیں(تفسیر ابن کثیر زیر آیت ھٰذا)۔اس صورت میں یہ معنے ہوں گے کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں کو اپنے مونہوں پر رکھا۔اور کہا کہ بولو مت خاموش ہو جاؤ۔یہ عام دستور بھی ہے۔خاموش کرانے کے لئے منہ پر ہاتھ رکھا جاتا ہے۔یَدٌ کے معنی احسان کے بھی ہوتے ہیں میرے نزدیک اس مشکل کو حل کرنے کے لئے لفظ یَدٌ کے اور معنوں کو بھی دیکھنا چاہیے۔لغت میں لکھا ہے کہ یَدٌ کے معنے نعمت اور احسان کے بھی ہوتے ہیں۔ان معنوںکو مدنظر رکھتے ہوئے اس آیت کے یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ انہوں نے نبیوں کے احسان کو ان کے منہ پر دے مارا۔اور کہا کہ اپنی تعلیم تم اپنے گھر لے جاؤ ہم نہیں سنتے۔گویا نبیوں کی تعلیم کو حقارت سے ٹھکرا دیا۔اور کہا کہ ہم اسے قبول کرنے کو تیار نہیں۔اردو میں بھی اس مفہوم کو ادا کرنے کے لئے ایک فارسی جملہ ’’عطاء تو بلقاء تو ‘‘ بولا جاتا ہے۔آیت کا اگلا حصہ بھی احسان کے معنوں کی تائید کرتا ہے آیت کا اگلا حصہ بھی انہی معنوں کی تائید کرتا