تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 117
شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَاۤ اِلَيْهِ مُرِيْبٍ۰۰۱۰ بلاتے ہو اس کے متعلق ہم ایک بے چین کر دینےوالے شک میں( پڑے ہوئے) ہیں۔حلّ لُغَات۔اَلنَّبَأُ اَلْخَبَرُ۔نَبَأٌ کے معنے ہیں خبر۔یُقَالُ اَ تَانِیْ نَبَأٌ مِّنَ الْاَنْبَاءِ چنانچہ اَ تَانِیْ نَبَأٌ مِّنَ الْاَنْبَاءِ کا محاورہ انہی معنوں کو ظاہر کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے کہ میرے پاس ایک خبر آئی۔وَقَالَ فِی الْکُلِّیَّاتِ اَلنَّبَأُ وَالْاَنْبَاءُ لَمْ یَرِدَا فِی الْقُرْاٰنِ اِلَّا لِمَا لَہٗ وَقْعٌ وَشَأْنٌ عَظِیْمٌ۔اور کلیات میں اَلنَّبَأُ کے متعلق یہ لکھا ہے کہ قرآن مجید میں اس کا استعمال ایسے واقعہ اور خبر پر ہوتا ہے جو عظیم الشان اور دل ہلا دینے والی ہوتی ہے۔(اقرب) پس اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَبَأٌ کے معنے ہوں گے کیا تمہارے پاس دل ہلا دینے والی خبر نہیں پہنچی۔الْیَدُ۔الْیَدُ۔الْکَفُّ۔یَدٌ کے معنے ہیں ہتھیلی۔أَوْمِنْ اَطْرَافِ الْاَصَابِـعِ اِلَی الْکَتِفِ نیز ید کا استعمال انگلیوں کے پوروں سے لے کر کندھے تک کے لئے بھی ہوتا ہے۔اس کی جمع اَیْدٍ اور یُدِیٌّ اور جمع الجمع اَیَادٍ ہے اور اَیَادِیْ کا اکثر استعمال نعمت اور احسان پر ہوتا ہے۔اور ید کے کئی اور معنے بھی ہیں۔مثلاً اَلْجَاہُ۔عزت۔أَ لْوَقَارُ۔وقار۔یُقَالُ’’ لَہٗ یَدٌ عِنْدَ النَّاسِ۔‘‘ چنانچہ جب لَہٗ یَدٌ عِنْدَ النَّاسِ کا فقرہ بولتے ہیں تو اس سے یہ مراد ہوتی ہے کہ فلاں شخص کو لوگوں کے ہاں عزت و رتبہ حاصل ہے۔اَلطَّرِیْقُ۔طریق۔أَ لْقُوَّۃُ وَالْقُدْرَۃُ۔طاقت۔وَالسُّلْطٰنُ۔وَالْوَلَایَۃُ۔غلبہ۔یُقَالُ مَالَکَ عَلَیْہِ یَدٌ اَیْ وَلَایَۃٌ۔چنانچہ مَالَکَ عَلَیْہِ یَدٌ میں یَد کے لفظ سے مراد ولایت ہی ہے۔اَلْمِلْکُ۔ملکیت۔اَلْجَمَاعَۃُ۔جماعت۔اَلْغِیَاثُ۔فریادرسی۔اَلنِّعْمَۃُ وَالْاِحْسَانُ تَصْطَنِعُہٗ نعمت و احسان جو کسی پر کی جائے۔وَھٰذَا فِیْ یَدِیْ اَیْ مِلْکِیْ ھٰذَا فِیْ یَدِیْ کے معنے ہیں کہ یہ چیز میری ملکیت ہے اور اَلْاَمْرُ بِیَدِ فُلَانٍ کہہ کر یہ مراد لیتے ہیں اَیْ فِی تَصَرُّفِہٖ کہ معاملہ فلاں کے تصّرف میں ہے۔وَیَدُ الرِّیْحِ سُلْطَانُھَا اور جب ید کا لفظ ریح کی طرف مضاف ہو تو اس کے معنے ہوتے ہیں ہوا کی تیزی و تُندی۔(اقرب) پس یَد کے مختلف معنوں کے لحاظ سے رَدُّوْا اَيْدِيَهُمْ فِيْۤ اَفْوَاهِهِمْکے مختلف معانی ہوں گے۔اوّل منکرینِ انبیاء نے اپنے ہاتھ اپنے منہ کی طرف لوٹا دیئے۔یعنی حیرت زدہ ہو گئے۔(۲) انہوں نے اپنے ہاتھوں کو اپنے مونہوں پر رکھا اور نبیوں کو کہا کہ بولو مت۔خاموش ہو جاؤ۔(۳) منکرین نے نبیوں کے احسانوں کو ان کے مونہوں پر دے مارا۔مُرِیْبٌ مُرِیْبٌ۔اَرَابَ سے اسم فاعل ہے۔اور اَرَابَ زَیْدًا کے معنے ہیں اَقْلَقَہٗ وَاَ زْعَـجَہٗ۔کہ زید کو کسی معاملہ نے بے چینی اور گھبراہٹ میں ڈال دیا۔(اقرب) اور مریب کے معنی ہوں گے بے چین کر دینے والا۔