تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 116 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 116

کسی قسم کی حاجت نہ ہو۔یعنی بے نیاز۔تفسیر۔حضرت موسیٰ ؑفرماتے ہیں کہ یہ جو خدا تعالیٰ بار بار نبیوں کے ذریعہ ہدایت بھیجتا ہے اس سے کہیں یہ نہ سمجھ لینا کہ خدا کو کوئی ضرورت ہے۔اس کو کوئی ضرورت نہیں۔وہ تمہارے فائدہ کے لئے بھیجتا ہے۔ورنہ وہ تو بے احتیاج ہستی ہے۔خدا تعالیٰ کا کلام بھیجنا اس کے محتاج ہونے کی دلیل نہیں اس آیت میں اس سوال کا جواب آجاتا ہے جو آج کل کے تعلیم یافتہ کیا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا کلام بھیجنا اس کے محتاج ہونے پر دلالت کرتا ہے۔فرماتا ہے کہ غنی کو دوسرے کی کیا احتیاج ہوسکتی ہے۔ہاں چونکہ وہ حمید ہے اس لئے ڈوبتوں کو بچاتا ہے۔اس میں یہ نکتہ بتایا کہ ہر کام اپنی احتیاج سے نہیں کیا جاتا۔بلکہ کبھی کام دوسرے کی احتیاج کو دور کرنے کے لئے کیا جاتا ہے۔جو لوگ خودغرض ہیں وہ اپنے پر قیاس کرکے خیال کرلیتے ہیں کہ جو بھی کام کیا جائے احتیاج ہی کے سبب ہوتا ہے۔حالانکہ احتیاج اور احسان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ کیا جو لوگ تم سے پہلے تھے یعنی نوح کی قوم اور عاداورثمود اور جو ان کے بعد ہوئے ان کی (نسبت) دلوں کو ہلا دینی ثَمُوْدَ١ۛؕ۬ وَ الَّذِيْنَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ١ۛؕ لَا يَعْلَمُهُمْ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ والی خبرتمہیں نہیں پہنچی وہ ایسے نابود ہوئے اور مٹائے گئے (کہ)اللہ (تعالیٰ) کے سواء (اب) انہیں کوئی (بھی) جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ فَرَدُّوْۤا اَيْدِيَهُمْ فِيْۤ نہیں جانتا۔(جب) ان کے پاس ان کے رسول( ہمارے) روشن نشان لے کر آئے تو انہوں نے ان کی بات نہ مانی اَفْوَاهِهِمْ وَ قَالُوْۤا اِنَّا كَفَرْنَا بِمَاۤ اُرْسِلْتُمْ بِهٖ وَ اِنَّا لَفِيْ اور کہا (کہ) جس (تعلیم) کے ساتھ تمہیں بھیجاگیا ہے اس کا (تو) ہم انکار کر چکے ہیں اور جس بات کی طرف تم ہمیں