تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 8
الْبَیْتِ سَقْفُہٗ چھت۔اَلْخَیْمَۃُ خیمہ۔اَلْبَیْتُ الَّذِیْ یُسْتَظِلُّ بِہٖ سایہ کا کام دینے والا گھر شِبْہُ بَیْتٍ مِنْ جَرِیْدٍ یُجْعَلُ فَوْقَہُ الثُّـمَامُ جھونپڑی (اقرب) اَلْاَجَلُ۔مُدَّۃُ الشَّیْءِ وَوَقْتُہُ الَّذِیْ یَحِلُّ فِیْہِ۔اَجَل اس وقت کو کہتے ہیں جس میں کوئی کام ہونا ہو۔کہتے ہیں ضَرَبْتُ لَہٗ اَجَلًا۔میں نے اس کے واسطے فلاں کام کے لئے ایک مدت مقرر کر دی ہے۔(اقرب) یُدَبّرُ۔تدبیر سے فعل مضارع ہے۔دَبَّرَالْاَمْرَ: نَظَرَ فِی عَاقِبَتِہِ وَتَفَکَّرَ انجام اندیشی کی اور سوچا۔اِعْتَنٰی بِہٖ اس کی طرف توجہ دی اور اس کا اہتمام کیا۔رَتَّبَہٗ وَنَظَّمَہٗ ترتیب دی۔اَلْوَالِی اَقْطَاعَہٗ: اَحْسَنَ سِیَاسَتَھَا عمدہ نگرانی اور انتظام کیا۔اَلْحَدِیْثَ۔نَقَلَہٗ عَنْ غَیْرِہٖ بیان کیا۔عَلٰی ھَلَاکِہٖ: اِحْتَالَ عَلَیْہِ وَسَعَی فِیْہِ۔ہلاک کرنے کی کوشش کی (اقرب) یُفَصِّلُ فَصَّلَ الشَّیْءَجَعَلَہٗ فُصُوْلًا مُتَـمَایِزَۃً کسی چیز یا کسی بات کے کئی حصے قرار دے کر انہیں ایک دوسرے سے ممتاز کرکے دکھایا۔اَلْکَلَامَ بَیَّنَہٗ و اضح اور روشن کیا۔(اقرب) تفسیر۔آیت کے دو معنے اس آیت کے دو معنے ہوسکتے ہیں۔ایک یہ کہ تم دیکھتے ہو کہ آسمان بغیر ستونوں کے کھڑے ہیں اور ایک یہ کہ آسمان بغیر ایسے ستونوں کے کھڑے ہیں جنہیں تم دیکھ سکو یعنے سہارا تو ہے لیکن وہ سہارا تم کو نظر نہیں آتا اور یہ دونوں معنے ہی صحیح ہیں اور آیت کے مفہوم کے مطابق ہیں۔اگر اس نقطۂ نگاہ سے دیکھا جائے کہ ستون عرف عام میں ان مادی ستونوں کو کہتے ہیں جو دوسری چیزوں کا وزن اپنے اوپر اٹھا لیتے ہیں تو آسمان بغیر ستونوں کے کھڑے ہیں اور اگر اس نقطۂ نگاہ سے دیکھا جائے کہ جس چیز کے ذریعہ سے کوئی چیز اپنی جگہ کھڑی ہے وہ مجازاً اس کا ستون ہے تو پھر آسمانی اجرام ایسے ستونوں پر کھڑے ہیں جو لوگوں کو نظر نہیں آتے جیسے کشش ثقل یا حرکاتِ مخصوصہ۔سیارگاں یا اور دوسرے ذرائع جو علماء طبیعیات نے دریافت کئے ہیں یا جو اب تک دریافت نہیں ہوئے۔آیت میں کفار کے شبہ کا ازالہ کیا گیا ہے اس آیت میں کفار کے اس شبہ کا ازالہ کیا گیا ہے کہ محمدؐ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے سامان ہیں فتح اور غلبہ کے لئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ انہیں میسر نہیں ہیں۔پھر وہ کس طرح اپنے مقصد میں کامیاب ہوسکتے ہیں؟ ہر چیز کا سہارا ایک قسم کا نہیں ہوتا اس شبہ کا ازالہ علاوہ پہلی آیت کے مضمون کے کہ جس میں الحق کہہ کر قرآن کریم کے قائم ہونے کی خبر دی گئی تھی اس طرح کیا گیا ہے کہ بے شک چیزوں کا قیام مناسب سہاروں کے اوپر ہوتا ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ تمام چیزوں کا سہارا ایک قسم کا ہو مادی اجرام کا سہارا ستون ہوتے ہیں۔ایک چھوٹی سی