تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 115 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 115

شکر میں صحیح استعمال اور صحیح مصرف کا ہونا ضروری ہے شکر کے لئے ضروری ہے کہ صحیح استعمال اور صحیح مصرف بھی ہو۔یہ قانون تمام ترقیات کا گر ہے۔اگر علم کا صحیح استعمال کیا جائے گا تو علم ضرور بڑھے گا۔آنکھ، ہاتھ، ناک، کان غرض ہر عضو جس کا صحیح استعمال کیا جائے وہ ضرور ترقی پذیر ہوتا ہے۔یہ ایک عام قانون ہے اس میں ہندو، مسلم یا عیسائی کی کوئی تمیز نہیں۔مسلمان مال کا صحیح استعمال نہیں کرتے۔وہ گررہے ہیں۔مگر ہندو اس کا صحیح استعمال کرنے کی وجہ سے ترقی کررہے ہیں۔مسلمانوں پر ادبار کی وجہ روحانیات کا بھی یہی حال ہے۔قرآن کریم ہی کو دیکھو مسلمان اس کا صحیح استعمال کرتے تھے تو نہ فلسفہ اور عقلیات اور نہ عیسائیت اور یہودیت وغیرہ مذاہب اسلام کے مقابلہ کی تاب لاسکے۔مگر آج وید، تورات اور انجیل ہر ایک اپنے آپ کو آگے آگے پیش کررہا ہے۔اور دوسری طرف علوم عقلیہ اس پر حملہ آور ہیں۔کبھی اسلام کفر کو کھاتا تھا آج کفر اسلام کو کھا رہا ہے۔جب مسلمان ہی اسلام کے متعلق کہہ رہے ہیں کہ اس کا یہ حکم بھی ناقابلِ عمل ہے اور وہ بھی تو اس کا باقی کیا رہ گیا۔اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھ دے کہ اپنے عیب کو اسلام کی طرف منسوب نہ کریں۔عمل تو وہ خود صحیح طور پر نہیں کرتے لیکن نتیجہ کی خرابی کو قرآن کریم کی طرف منسوب کرتے ہیں۔وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنْ تَكْفُرُوْۤا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا١ۙ اور موسیٰ نے (اپنی قوم سے یہ بھی) کہا تھا (کہ)اگر تم اور جو( دوسرے لوگ) زمین میں (بستے) ہیں سب (کے فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ حَمِيْدٌ۰۰۹ سب) بھی کفر اختیار کر لو تو(اس میں خدا تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں ہو سکتا کیونکہ) اللہ( تعالیٰ) یقیناً بے نیاز (اور) بہت ہی تعریفوں والا ہے۔حلّ لُغَات۔غَنِیٌّ۔غِنًی میں سے صفت مشبہ ہے۔اور غَنِیَ فُلَانٌ غِنًی وغَنَاءً کے معنے ہیں ضِدُّ فَقَرَ۔اَیْ کَثُرَ مَالُہُ وَ کَان ذَا وَفْرٍ۔کہ مالدار ہو گیا۔اور ہر چیز کثرت سے میسر آ گئی۔غَنَی بِہِ عَنْ غَیْرِہِ : اِکْتَفَی بہِ یعنی اس چیز کے میسر آ جانے سے دوسروں کی مدد کا محتاج نہ رہا۔اَلْغَنِیُّ: الْمُکْتَفِیْ مِنَ الرِّزْقِ ضرورت کے مطابق رزق والا۔وَھُوَ غَنِیٌّ عَنْہُ اَیْ مُسْتَغْنٍ ھُوَ غَنِیٌّ عَنْہُ کے معنے ہیں اس سے بے نیاز (اقرب) علاوہ ازیں غِنًی کے معنے ہیں عَدَمُ الْحَاجَاتِ حاجات کا نہ ہونا۔(مفردات) پس غَنِیٌّ کے معنے ہوں گے ایسی ذات جسے