تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 114
بلاء کے معنی امتحان کے ہیں خواہ بذریعہ عذاب لیا جائے یا بذریعہ انعام۔چونکہ بنی اسرائیل کی آزمائش لڑکوں کے قتل سے اور لڑکیوں کو بچا کر کی گئی تھی اس لئے بلاء کا لفظ استعمال کیا گیا جو دونوں قسم کے امتحانوں پر دلالت کرتا ہے۔وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ وَ لَىِٕنْ اور (اس وقت کو بھی یاد کرو) جب تمہارے رب نے (انبیاء کے ذریعہ سے) اعلان کیا تھا کہ( اے لوگو) اگر تم كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِيْ لَشَدِيْدٌ۰۰۸ شکر گذار بنےتو میں تمہیں (اور بھی) زیادہ دوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی تو( یاد رکھو کہ) میرا عذاب یقیناً سخت (ہوا کرتا) ہے۔حل لغات۔تَأَذَّنَ تَأَذَّنَ الرَّجُلُ۔اَقْسَمَ۔تَاَذَّنَ الرَّجُلُ کے معنے ہیں قسم کھائی۔تَأَذَّنَ الْاَمْرَ۔(متعدّی) اَعْلَمَہٗ کسی معاملہ کی اطلاع دی اور بتلایا۔اَلْاَمِیْرُ فِی النَّاسِ نَادٰی فِیْہِمْ یُھَدِّ دُ وَ یَنْھٰی۔تَأَذَّنَ الْاَمِیْرُ کے معنے ہیں کہ امیر نے لوگوں میں حاکمانہ اعلان کیا (اقرب) وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكُمْ کے معنے ہوں گے کہ اس وقت کو یاد کرو کہ جب تمہارے رب نے اعلان کیا اور اس بات کی اطلاع دی۔کَفَرَ۔کَفَرَ نِعْمَۃَ اللہِ وَبِنِعْمَۃِ اللہِ کُفْرَانًا۔کے معنے ہیں جَـحَدَ ھَا وَسَتَرَھَا یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا انکار اور ان کی ناشکری کی اور ان کو ظاہر نہ کیا۔وَھُوَضِدُّ الشُّکْرِ۔کفر کا لفظ شکر کے مقابل بولا جاتا ہے۔وَفِی الْکُلّیَّاتِ اَلْکُفْرُ تَغْطِیَۃُ نِعَمِ الْمُنْعِمِ بِالْجُحُوْدِ اور کلیات میں کفر کے یہ معنے لکھے ہیں کہ محسن کی نعمتوں کا انکار کرتے ہوئے ان پر پردہ ڈالنا اور ان کا اقرار نہ کرنا۔(اقرب) پس اِنْ کَفَرْتُمْ کے معنے ہوں گے کہ اگر تم میری نعمتوں کی ناشکری کرو۔شَکَرْتُمْ۔شکر کی تشریح کے لئے دیکھو ابراہیم آیت نمبر ۶۔تفسیر۔تمام ترقیات شکر کے ساتھ وابستہ ہیں اس آیت میں ایک عظیم الشان قانون بتایا ہے کہ تمام ترقیات شکرکے ساتھ وابستہ ہیں۔شکر کے معنے جیسا کہ حل لغات میں بیان کیا گیا ہے احسان ماننا اور محسن کی ثناء کرنا ہیں۔اللہ تعالیٰ کا شکر اسی طرح سے ہوتا ہے کہ انسان اس کی دی ہوئی چیز کو عمدگی کے ساتھ اور برمحل استعمال کرے۔جب کوئی شخص کسی کی دی ہوئی چیز کو استعمال نہ کرے تو اس کی تعریف کرنا صرف لفظی ثناء ہوگی۔شکر نہ ہوگا۔