تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 102
صحابہ جو غریب اور متوسط الحال لوگ تھے۔ایسے ایسے دولت مند ہو گئے کہ ایک صحابی عبدالرحمٰن بن عوف جب فوت ہوئے تو اڑھائی کروڑ روپیہ ان کا ترکہ نکلا جو آج کل کے لحاظ سے بہت بڑی دولت ہے کیونکہ اس وقت روپیہ کی قیمت بہت زیادہ ہوتی تھی۔آنحضرت ؐ کے ذریعہ سے عربوں میں دوسری تبدیلی دوسری تبدیلی بھی ظاہر ہے۔عرب کے لوگ یا تو لکھنے کو عیب سمجھتے تھے اور کسی قسم کا علم بھی ان میں نہ پایا جاتا تھا۔ساری دنیا کے علوم کے حامل ہو گئے۔تاریخ کی بنیاد انہوں نے ڈالی۔صرف و نحو، معانی، بیان، لغت کو انہوں نے کمال تک پہنچا دیا۔علوم کی ایجاد فقہ اور فلسفہء فقہ اور منطق اور حکمت اور طب اور سیاست اور انجینئرنگ اور ہندسہ اور الجبرا اور علم کیمیا اور ہیئت وغیرہ۔بیسیوں علوم یا ایجاد کئے یا انہیں ادنیٰ حالت سے بڑھا کر کمال تک پہنچایا۔اور آج یورپ کے محققین تسلیم کرتے ہیں کہ اگر مسلمان عرب نہ ہوتے تو آج دنیا علم کی اس منزل پر نہ ہوتی جہاں اب ہے۔اور روحانیت میں جو عربوں نے ترقی کی اس کی مثال تو ابتداء عالم سے اس وقت تک اور کسی قوم میں پائی ہی نہیں جاتی۔اللّٰهِ الَّذِيْ لَهٗ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ١ؕ وَ وَيْلٌ یعنی اللہ (تعالیٰ کے راستہ کی طرف) کہ اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور (اس کا) انکار لِّلْكٰفِرِيْنَ مِنْ عَذَابٍ شَدِيْدِۙ۰۰۳ کرنےوالوں کے لئے ایک (بہت) بڑی آفت یعنی ایک سخت عذاب (مقدر) ہے۔حلّ لُغَات۔اَلْوَیْلُ۔حَلُوْلُ الشَّرِّ۔وَیْلٌ کے معنے ہی مصیبت کا نازل ہونا۔وَقِیْلَ ھُوَ تَفْجِیْعٌ اور بعض محققین لغت کہتے ہیں کہ یہ لفظ کسی کے مبتلائے مصیبت ہونے یا اس پر اظہار افسوس کے لئے بولا جاتا ہے۔وَوَیْلٌ کَلِمَۃُ عَذَابٍ۔نیز یہ لفظ عذاب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔وَالرَّفْعُ عَلَی الْاِ بْتِدَاءِ اور چونکہ وہ اس مقام پر مبتداء ہوتا ہے اس پر رفع آتا ہے۔وَالْوَیْلَۃُ۔اَلْفَضِیْحَۃُ وَالْبَلِیَّۃُ اور وَیْلَۃٌ کے معنی رسوائی کے اور مصیبت کے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔اللہ عزیز و حمید کے بعد آیا ہے اس لئے کہ یہاں وہ عطف بیان کے طور پر استعمال ہوا ہے۔اور معنے یہ ہوئے کہ عزیز و حمید کے راستہ کی طرف جس سے مراد ہماری اللہ ہے۔اسی کا آسمان اور زمین ہے یعنی تمام مخلوق