تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 101

لوگوں کو اندھیرے سے روشنی کی طرف نکال لے جائیں گے۔روشنی کی تشریح پھر روشنی کی تشریح اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِ سے کی۔یعنی عزیز و حمید خدا کا راستہ ہی اصل روشنی ہے۔ہم دیکھتے ہیں روشنی کو تو ہر ایک پسند کرتا ہے لیکن روشنی کی تشریح میں لوگوں کو اختلاف ہوتا ہے۔آج کل لوگ کہتے ہیں یہ نئی روشنی کے آدمی ہیں اور مراد جدید فلسفہ اور تہذیب اور اباحت اور لامذہبی کی اتباع ہوتی ہے۔کوئی کہتا ہے مسیحیت خدا کا نور ہے۔کوئی ہندو مذہب کو کوئی اسلام کو خدا کا نور قرار دیتا ہے۔اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ رسم و رواج اور قشر اور چھلکا خدا کا نور نہیں کہلا سکتا۔نور تو خدا تعالیٰ کی طرف جانے کا نام ہے۔جس کا قدم خدا تعالیٰ کی طرف نہیں اٹھا اسے نور کو حاصل کرنے والا کسی صورت میں نہیں کہہ سکتے۔نور کو وہی پاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔صفت عزیز اور حمید علمی و عملی روشنی پر دلالت کرتی ہیں وجود باری پر دلالت کرنے کے لئے اس جگہ دو صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔عزیز اور حمید۔عزیز کے معنے غالب اور حمید کے معنے قابل تعریف کے ہیں۔ان دو صفات کا انتخاب اس لئے کیا گیا ہے کہ ایک عملی روشنی پر دلالت کرتا ہے اور دوسرا علمی پر۔عزیز سے مل کر انسان اپنے دشمنوں پر غالب آجاتا ہے اور ظاہری اندھیرے یعنی تکالیف اور مصائب دور ہوجاتے ہیں۔اور حمید سے مل کر انسان اپنے اندرونی دشمن شیطان پر غالب آجاتا ہے اور باطنی اندھیرے یعنی وساوس اور شبہات اور جہالت دور ہو جاتے ہیں۔آنحضرت ؐ کے ذریعہ سے عربوں میں پہلی تبدیلی۔صفت عزیز کے ماتحت صحابہ دنیا پر حکمران ہوگئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے یہ دونوں کام ہوئے۔عربوں کی ذلت اور نکبت و ادبار بھی دور ہوا۔اور ان کی جہالت اور شرک اور اخلاقی کمزوری بھی دور ہوئی۔ایک طرف وہ سب دنیا کے بادشاہ ہو گئے۔دوسری طرف وہ سب دنیا کے معلم ہو گئے۔عربوں کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کی حالت اور آپ کے بعد کی تبدیلی کا اس تاریخی واقعہ سے کچھ اندازہ ہوسکتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب ایرا ن پر چڑھائی ہوئی تو ایران کے بادشاہ نے اپنے کمانڈر انچیف کو یہ کہلا بھیجا کہ ان لوگوں کو کچھ انعام کا وعدہ دے کر جنگ کو ختم کرو۔اور انعام بھی نہایت حقیر تھا۔یعنی فی سپاہی ایک ایک دو دو دینار(السیرۃ الحلبیۃ ،الفاروق از شبلی نعمانی واقعہ محل)۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب اپنی ہمسایہ قوموں کی نظر میں نہایت غریب اور محتاج اور کم ہمت تھے۔لیکن اسلام نے ان کو کیا بنا دیا۔وہ اس سے ظاہر ہے کہ انہوں نے نہ صرف ایرا ن کو فتح کیا بلکہ شام، فلسطین، مصر، اناطولیہ، آرمینیا، عراق، شمالی افریقہ، ہسپانیہ، افغانستان، ہند اور چین تک بھی پہلی صدی کے اندر فتح کرلئے۔