تفسیر کبیر (جلد ۵)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 100 of 460

تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 100

بھلا سکتے ہیں۔پھر مومنوں کو توجہ دلائی ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے ہم تمہارے فرائض بیان کرچکے ہیں۔تمہیں وہ ذمہ داریاں کبھی نہیں بھلانی چاہئیں اور کفار کو ڈرایا ہے کہ ابراہیم نے اس نیت سے مکہ کی بنیاد رکھی تھی کہ یہ توحید کا مرکز ہو۔اب اگر تم شرک نہ چھوڑوگے تو تم کو یہاں سے دور کر دیا جائے گا۔اور تمہاری ہلاکت توحید کی تصدیق کے لئے ایک دلیل بن جائے گی۔بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۰۰۱ (میں) اللہ (تعالیٰ) کا نام لے کر (شروع کر تا ہوں) جو بے حد کرم کرنے والا (اور) بار بار رحم کر نے والا ہے۔الٓرٰ١۫ كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ الٓرٰ۔(یہ) ایک کتاب ہے جسے ہم نے تجھ پر اس لئے اتارا ہے کہ تو تمام لوگوں کو ان کے رب کے حکم سے ظلمات اِلَى النُّوْرِ١ۙ۬ بِاِذْنِ رَبِّهِمْ اِلٰى صِرَاطِ الْعَزِيْزِ الْحَمِيْدِۙ۰۰۲ سےنکال کر نور کی طرف یعنی (اس) کامل (طور پر) غالب( اور) کامل محمود( ہستی تک پہنچنے )کے راستہ کی طرف لائے۔حل لغات۔لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْر۔أَخْرَجَہٗ اور أَخْرَجَہٗ مِنْ کَذَا اِلٰی کَذَا کے معنوں میں فرق ہوتا ہے۔اَخْرَجَہٗ کے یہ معنے ہیں کہ اس کو نکالاا ور اَخْرَجَہٗ مِنْ کَذَا اِلٰی کَذَا کے معنے یہ ہیں کہ اس کو وہاں سے نکال کر دوسری جگہ لے گیا۔پس لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ کے یہ معنے ہوں گے کہ تو لوگوں کو ظلمات سے نکال کر نور کی طرف لائے۔بِاِذْنِ رَبِّھِمْ اِلَی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ۔ان کے ربّ کے حکم کے ساتھ اس راستہ کی طرف جو عزیز و حمید کا ہے عزیز کے معنے ہیں أَ لْمَنِیْعُ الَّذِیْ لَایَنَالُ وَلَا یُغَالِبُ وَلَایُعْجِزُہٗ شَیْءٌ وَلَا مِثْلَ لَہٗ۔غالب، قادر جسے کوئی چیز عاجز نہ کرسکے اور اس کا کوئی شریک نہ ہو۔(اقرب) حَمِیْدٌ جو کامل حمد والا ہو۔تفسیر۔کتاب خبر ہے۔مبتداء محذوف کی جو مثلاً ھٰذَا الْقُرْاٰنُ ہے۔یعنی یہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے جو ہم نے تجھ پر اتاری ہے۔قرآن کریم ایک روشنی ہے اس آیت میں بتایا ہے کہ قرآن کریم ایک روشنی ہے جس کے ذریعہ سے محمد رسول اللہ