تفسیر کبیر (جلد ۵) — Page 99
سُوْرَۃُ اِبْرَاہِیْمَ مَکِّیَّۃٌ سورۃ ابراہیم۔یہ سورت مکی ہے وَھِیَ مَعَ الْبَسْمَلَةِ ثَلَاثٌ وَّ خَمْسُوْنَ اٰیَةً وَ سَبْعَةُ رُکُوْعَاتٍ اور بسم اللہ سمیت اس کی تریپن آیتیں ہیں اورسات رکوع ہیں سورۃ ابراہیم مکی ہے جمہور کے نزدیک یہ سورۃ سب مکی ہے۔لیکن ابن عباس اور قتادہ کے نزدیک اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ بَدَّلُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ كُفْرًا سے اِلَى النَّارِ تک مکی نہیں باقی مکی ہے(بحر محیط زیر آیت ابراہیم ۱ تا ۳ )۔نحاس نے حبر سے روایت کی ہے کہ یہ آیتیں بدر کے مشرک مقتولین کے متعلق ہیں۔ابوالشیخ نے بھی اسی قسم کی روایت قتادہ سے کی ہے(روح المعانی ابتدائی تعارف سورۃ ابراہیم)۔سورۃ ابراہیم کا سورۃ ھود سے تعلق اس سورۃ میں بھی وہی پہلا مضمون جاری رکھا گیا ہے۔مگر رؤیت پر بنیاد ہے۔یعنی واقعات سے مسائل کا زیادہ استخراج کیا گیا ہے۔اور بتایا گیا ہے کہ ایسے ہی حالات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے گزر چکے ہیں۔اور پھر بھی وہ رسول بغیر اس کے کہ ظاہری سامان ان کی تائید میں ہوں کامیاب ہوتے رہے ہیں۔سورۃ ابراہیم کا خلاصہ مضمون خلاصہ مضمون اس سورۃ کا یہ ہے کہ قرآن کریم کے نزول کی اصل غرض ہدایت ہے۔لوگ تاریکی میں تھے۔اب تو انہیں تاریکی سے نور کی طرف نکالے گا۔اس غرض کے لئے ہم پہلے بھی رسول بھیج چکے ہیں۔چنانچہ موسیٰ علیہ السلام بھی اسی غرض سے آئے تھے اور پھر موسیٰ کی زبانی بتایا ہے کہ پہلے رسول بھی اسی غرض سے آئے تھے۔پھر ان سب کی کامیابی کا گر بتایا کہ چونکہ ان کے ساتھ حق تھا اس لئے آخر ان کی بات غالب آئی۔پھر سچے کلام کی علامتیں بتائی ہیں اور فرمایا ہے کہ تمہیں دیکھنا چاہیے کہ آیا یہ علامتیں قرآن کریم میں موجود ہیں یا نہیں۔پھر جو اندھیرے سے باہر نکالے گئے ہیں یعنی مسلمانوں کو بتایا ہے کہ اس اعلیٰ کلام سے تم کس طرح فائدہ اٹھا سکتے ہو۔پھر بتایا ہے کہ یہ تغیر جو عرب میں پیدا ہونے والا ہے اس کا آج ہی ہم نے ارادہ نہیں کیا کہ ہم اس کو بدل ڈالیں بلکہ یہ قدیم سے ہمارے مدنظر ہے۔جن تغیرات کو ہم آج پیدا کرنا چاہتے ہیں انہیں کے لئے ہزاروں سال پہلے ابراہیم نے دعا کی تھی۔بلکہ مکہ کو قائم ہی انہیں تغیرات کے لئے کیا گیا ہے۔اور ہم جو غیر معمولی طور پر مکہ کے لوگوں کو رزق پہنچاتے رہے ہیں وہ بھی ان آئندہ آنے والے تغیرات کی وجہ سے تھا۔پھر ہم آج انہیں کس طرح